ناسا نے مریخ کے اندرونی ڈھانچے کا تعین کر لیا

   

واشنگٹن۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اب مریخ کے اندرونی ڈھانچے کا مکمل تعین کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے خلائی جہاز ان سائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات پر مریخ کے اندرونی ڈھانچے کی مکمل شکل تیار کر لی ہے۔ ان سائٹ خلائی جہاز سنہ 2019 سے مریخ پر آنے والے زلزلوں کو ریکارڈ کر رہا ہے۔اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مریخ کی بیرونی پرت یا کرسٹ کی موٹائی 24 سے 72 کلومیڑ ہے جو اندازوں سے کم ہے لیکن سب سے اہم دریافت مریخ کی اندرونی پرت یا کور سے متعلق ہے جس کا نصف قطر 1830 کلومیٹر ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدان زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کے اندرونی ڈھانچے کا تعین کر سکے ہیں۔ چاند کی اندرونی ساخت کا بھی پتا چلایا گیا ہے لیکن مریخ کا نصف قطر 3390 کلومیٹر ہے جو چاند سے بہت زیادہ ہے۔مریخ کی اندرونی ساخت کے بارے میں معلومات سیاروں کے قیام اور ان کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔قدرتی عوامل توانائی کی لہروں کو چھوڑتے ہیں اور ان لہروں کی رفتار اور راستے کی تبدیلی سے ان چیزوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے جن سے توانائی کی لہریں گزرتی ہیں۔ ناسا نے زلزلہ ناپنے کے لیے جس نظام کا استعمال کیا ہے اس نے پچھلے دو برسوں میں سینکڑوں زلزلوں کو محسوس کیا جو سرخ سیارے کی اندرونی ساخت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ناسا مشن کی آلات والی ٹیم کی سربراہی فرانس اور برطانیہ کرتے ہیں۔مریخ کی وہ سطح جہاں خلائی جہاز موجود ہے، وہاں مریخ کی بیرونی پرت کا تعین 20 سے 39 کلومیٹر کیا گیا ہے۔