خواجہ رحیم الدین ، نیویارک، امریکہ
دنیا میں جتنے ادیان موجود ہیں ان کے مطابق ہر دین اپنے ماننے والوں کو زندگی میں اخلاقی حدود کی پابندی کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ ایک زمانہ ایسا آیا گرمی کی شدت برداشت سے باہر تھی وہ زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا تھا، لوگ بے حال اور پریشان تھے، پریشانی میں لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوگئے اور کہنے لگے آپ سے دعا کی گذارش ہے کہ اللہ باران رحمت فرمادے اُسی وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کے لئے آپ بنی اسرائیل کے ہمراہ جنگل میں چلے گئے اور آپ بارش کی دعا فرمانے لگے۔ اللہ معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں، نیک بوڑھوں، عورتوں اور بے زبان جانوروں کے طفیل ہم پر رحم فرما کر باران رحمت نازل فرمائیے، دعا کے بعد بجائے امید کے آسمان پہلے سے زیادہ صاف اور آفتاب پہلے سے زیادہ شدت کا گرم ہوگیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت تعجب و حیرت ہوئی، اور دوبارہ پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھاکر عرض کیا یا اللہ نبی آخر الزماں محمد ؐ رسول اللہ کے واسطہ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اپنی رحمت متوجہ فرماکر بارش نازل فرمائیے، اُسی وقت وحی آئی اے موسیٰ تمہارا درجہ و مرتبہ ہمارے پاس بالکل کم نہیں ہوا تم اب بھی ہمارے ندیک مرتبے والے ہو، ہاں بات یہ ہے کہ اس قوم میں ایک ہمارا نافرمان بندہ ہے جو چالیس سال سے ہمیں ناراض کرتا رہا ہے جب تک وہ موجود رہے گا ہم ایک قطرہ بھی بارش نہیں برسائیں گے، آپ اعلان کردیں تاکہ مجمع سے وہ نافرمان چلا جائے جس کے سبب بارش رکی ہوئی ہے۔ حکم حاصل ہوتے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کردیا تب وہ نافرمان بندہ اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور ادھر ادھر دیکھتا رہا تب اس نافرمان کے علاوہ اور کوئی مجمع سے باہر نکلتا نظر نہیں آیا اب اُس نے سوچا اگر میں باہر نکل جاؤں تو سب کے سامنے شرمندگی ہوگی اور اگر نہیں نکلا تو میرے گناہوں کے سبب بارش نہیں ہوگی تو سب کے لئے پریشانی ہوگی یہ سوچتا رہا آخر دل میں توبہ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور آنکھیں بند کرلیا اور اللہ سے معافی مانگنا شروع کردیا۔ کتنا سکون دیتا ہے اس جگہ بیٹھ کے معافی و دعا کرنا جہاں اللہ کے سوا کوئی سننے والا نہ ہو۔
اسے میرے رب یہ تیرا بندہ گناہ گار ہے میں گناہوں پر شرمندہ ہوں آپ کی توجہ کا طالب ہوں لا علمی میں مجھ سے گناہ ہوگیا اس سے میں بہت شرمسار ہوں میں معافی مانگتا ہوں چالیس سال تک نافرمانی کیا تو مہلت دیتا رہا اب تیری طرف توبہ کے لئے آیا ہوں قبول فرما مایوس نہ فرما۔ دنیا میں سب سے تیز رفتار چیز دعا ہے کیونکہ ’’دل‘‘ سے زبان تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتی ہے۔
روایت میں آتا ہے ابھی دعا چل رہی تھی، توبہ ختم بھی نہیں ہوئی کہ آسمان سے موسلادھار بارش شروع ہوگئی، یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تعجب ہوا۔ آپ نے عرض کیا اے اللہ ابھی کوئی بندہ مجمع سے باہر نہیں نکلا پھر یہ بارش کیسے برسی، اللہ پاک کا ارشاد ہوا موسیٰ اس بندہ نے توبہ کرلیا اور میں نے صلح کرلی، تب موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا یا اللہ وہ بندہ کون ہے، اللہ نے فرمایا جب وہ بندہ نافرمان تھا تب میں نہیں بتایا اس پر پردہ ڈالا، آج جب وہ توبہ کرچکا ہے تو اُسے رسوا کیسے کروں میں اُسے معاف کردیا۔
آئے ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یار نہیں
