29 مارچ کو جنگ کے خلاف چارمینار تا نمائش میدان ریلی ۔ عوام شرکت کریں۔ پروفیسر کودانڈا رام سے بات چیت
حیدرآبادو۔22مارچ(سیاست نیوز) مرکزی حکومت دستوری ذمہ داریوں کو فراموش کرکے اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے اور ایران پر حملوں پر اختیار کئے ہوئے ‘ جبکہ اس سارے معاملے میں ہندوستان تنہا ہوگیاہے۔ ملک میں آج پٹرول ڈیزل اور گیس کی قلت کی وجہہ بھی ہماری ناقص خارجہ پالیسی ہے۔ اگر ہم ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں پر مذمت کرتے ‘ امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دیتے تو آج ملک کو اس صورتحال کاسامنا نہیںہوتا۔ سیاست ٹی وی سے بات چیت میں صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودانڈا رام نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کودانڈا رام نے ایران پر امریکہ او راسرائیل کے حملے کو غیر ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ ساری دنیا پر اس کے اثرات نمایاں دکھائی دے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مزید پریشانیاں پیش آسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایران کے پاس نہ تو نیو کلیئر ہتھیار ہیں اور نہ ہی اس کا نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ ہے ۔ جبکہ ایران نے امریکہ ساتھ ایک معاہدہ کرتے ہوئے 2015میں ہی عالمی اداروں کو ایران میں آکر جانچ کی دعوت دی تھی او رعالمی اداروں کی جانچ کے بعد ایران کو کلین چٹ بھی دیدی گئی تھی ۔ تاہم امریکہ امریکہ نے من مانی اور ایران پر حملہ شروع کردیا۔انہوں نے بمباری میں شہری علاقوں‘ اسپتالوں‘ اسکولوں کو نشانہ بنانے اور معصوم بچوں او رمریضوں کی جان لینے کی مذمت بھی کی ۔کودانڈا رام نے کہاکہ ایران پر حملے کے بعد مشرقی وسطیٰ کا نظام بگڑ گیاہے ۔ پٹرول ‘ ڈیزل و گیس بھی خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے سبب ساری درآمد متاثر ہوگئی ہے ۔ کودانڈا رام نے کہاکہ اگرحالات اسی طرح چلتے رہے تو ہندوستان سمیت دنیا بھر میں پٹرول ‘ ڈیزل او ر گیس کی قیمتوں میںاضافہ ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 110 ڈالر پبا’حص جبکہ یہ 150ڈالر تک پہونچ سکتی ہیں۔ کودانڈا رام نے کہاکہ اہم بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں ایک کروڑ سے زائد ہندوستانی مقیم ہیں اور 15لاکھ تو تلنگانہ سے ہی ہیں ۔ ان تمام ہندوستانیوں کی مشکلات میںبھی مسلسل جنگ کی وجہہ سے اضافہ ہورہا ہے۔ کودانڈا رام نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانیوں کی وطن واپس لوٹنے پر اپنے ہی ملک میں روزگارکی فراہمی کیلئے مشکلات کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہاکہ موجودہ حکومت روزگار کی فراہمی میںپہلے ہی بری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر دستوری ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کا دستور حکومت پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے وہ ملک کی عوامی کی پریشانیوں کو دور کرے ‘ ان کی ترقی کو یقینی بنائے ‘ملک میںامن واستحکام پیدا کرے ‘ مگر مرکز ان تمام امور کی انجام دہی میں ناکام ہے۔