جب حالات سازگار ہوں اور ہوا موافق چل رہی ہو، جب کسی مسلک پر قائم رہنے پر انعام ملتا ہو اور پھول برسائے جاتے ہوں، جب کسی قوم و جماعت کا ستارۂ اقبال بلند ہو اور اس کا بخت یاور، جب کسی جماعت میں شرکت باعث اعزاز ہو اور سرمایہ افتخار تو اس وقت اس مسلک پر قائم رہنا اور اس عقیدے کا اظہار کرنا کوئی بہادری اور مردانگی نہیں، لیکن جب حالات ناساز گار ہوں اور باد مخالف تیز و تند چل رہی ہو جب بڑے بڑے جواں مردوں کے قدم اکھڑ رہے ہوں، جب کسی اصول اور عقیدے کو اختیار کرنا دارو رسن کو دعوت دینے کے مرادف ہو، جب کسی قوم کے کا تنزل کا زمانہ ہو، اقبال نے اس سے منہ موڑ لیا ہو، اور زمانے کی نگاہیں اس سے پھری ہوئی ہوں، اس وقت اس مسلک پر ثبات و استقامت اور اس جماعت سے انتساب و نسبت بڑے شیر مردوں کا کام اور بڑی وفاداری اور نمک حلالی کی بات ہے۔ اور ہر بادشاہ اور حکومت کو ایسے سپاہی کی بڑی قدر ہوتی ہے جو اس وقت میدان جنگ میں کھڑا رہے جب فوج کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں، اور بھگدڑ مچ جاتی ہے۔
✍🏻 مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ(سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ