نامور گلوکار شان عید کی مبارکباد پر فرقہ پرستوں کا نشانہ

   

نماز کی تصویر پر اعتراض، شان نے مخالفین کو منہ توڑ جواب دیا
حیدرآباد۔ /23 اپریل، ( سیاست نیوز) ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور عدم رواداری سے فلمی شخصیات بھی محفوظ نہیں ہیں۔ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے موقع پر مسلمانوںکو مبارکباد دینے کا منفرد انداز مشہور گلوکار شان کو مہنگا ثابت ہوا، اور فرقہ پرست طاقتوں نے سوشیل میڈیا پر ان کے خلاف مہم شروع کردی ہے۔ دنیا بھر کی معروف اور مشہور شخصیتوں نے عید کے موقع پر اپنے مداحوں کو مبارکباد پیش کی۔ مشہور گلوکار شان نے سر پر ٹوپی لگاکر نماز ادا کرتے ہوئے اپنی تصویر سوشیل میڈیا میں شیئر کی اور عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد دی۔ ان کا پوسٹ جیسے ہی وائرل ہوا فرقہ پرست طاقتیں متحرک ہوگئیں اور ان سے سوال کیا جانے لگا کہ وہ کب سے مسلمان ہوگئے۔ مخالف ٹرولنگ کا گلوکار شان نے منہ توڑ جواب دیا۔ مسلمان گیٹ اَپ پر ناراضگی کا اظہار کرنے والوں کو جواب میں شان نے لکھا کہ مجھے آپ کے ردعمل پر حیرانی ہے، میں ہندو ہوں اور برہمن ہوں، بچپن سے یہی سکھایا گیا کہ ایک دوسرے کے تہوار منانا، ہر طبقہ کا اہتمام کرنا یہی میری سوچ ہے اور ہر ہندوستانی کی سوچ یہی ہونی چاہیئے، آپ کو آپ کی سوچ مبارک ہو۔ گلوکار شان نے کمینٹ سیکشن میں جئے پرشو رام بھی لکھا۔ انہوں نے اپنی ایک لائیو ویڈیو بھی شیئر کی جس میں اسی مسئلہ پر گفتگو کرتے دکھایا گیا ہے۔ شان کا گیٹ اَپ دراصل ایک ویڈیو کی شوٹنگ کا ہے۔ شان نے کہا کہ آج عید ہے، میں نے تین سال پہلے ایک ویڈیو بنائی تھی یہ اسی کی تصویر ہے۔ آپ کو اورآپ کے اہلِ خانہ کو عید مبارک۔ واضح رہے کہ فرقہ پرست طاقتوں نے سابق میں مسلمانوں سے ہمدردی کرنے والے جہد کاروں اور فلمی شخصیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ر