چیف الیکٹورل آفیسر سے کانگریس وفد کی ملاقات، دستاویزی ثبوت حوالے کیا گیا
حیدرآباد۔/5 جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس قائدین کے وفد نے آج چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج سے ملاقات کی اور نامپلی اسمبلی حلقہ میں فہرست رائے دہندگان میں خامیوں اور بے قاعدگیوں کا دستاویزی ثبوت پیش کیا۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی اور انچارج لوک سبھا حیدرآباد محمد فیروز خاں کی قیادت میں نائب صدر پردیش کانگریس جی نرنجن، صدر خیریت آباد ضلع کانگریس کمیٹی ڈاکٹر روہن ریڈی، سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی محمد راشد خاں اور دوسروں نے وکاس راج کو حلقہ اسمبلی نامپلی میں جملہ ایک لاکھ 13 ہزار 310 بوگس ووٹرس کی نشاندہی کی اور کہا کہ اسمبلی حلقہ کا ہر تیسرا ووٹ بوگس ہے۔ اس سلسلہ میں الیکٹورل آفیسر اور الیکشن کمیشن سے سابق میں بھی نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن بوگس ناموں کو حذف کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ وکاس راج نے کانگریس قائدین کو تیقن دیا کہ وہ دستاویزی ثبوت کا جائزہ لیتے ہوئے بوگس ناموں کو حذف کرنے کے اقدامات کریں گے۔ کانگریس قائدین نے کہاکہ حیدرآباد میں مجلسی قیادت نے عہدیداروں کی ملی بھگت سے فہرست رائے دہندگان میں فرضی ناموں کو شامل کیا ہے تاکہ رائے دہی میں فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بوگس ناموں کی جانچ کیلئے عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی جائے اور جنگی خطوط پر نامپلی اسمبلی حلقہ کی فہرست پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے نئی اور شفاف فہرست جاری کی جائے۔ انہوں نے خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔ فیروز خاں نے بتایا کہ نامپلی میں جملہ رائے دہندے 3 لاکھ 10 ہزار 953 ہیں۔ 1995 سے 2704 افراد فوت ہوئے اس کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے تحت2015-23 میں 7767 افراد فوت ہوئے۔ اس طرح فہرست رائے دہندگان سے ان ناموں کو حذف کرنے کے بجائے برقرار رکھا گیا ہے۔ 45567 رائے دہندے دیگر علاقوں کو منتقل ہوگئے لیکن ان کے نام برقرار ہیں۔ 34867 ووٹرس ایسے ہیں جن کے اڈریس درست نہیں ہیں اور ایک سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر یہ نام درج ہیں۔ 16468 ووٹرس ایسے ہیں جن کا تعلق دیگر اسمبلی حلقہ جات سے ہے۔ مجموعی طور پر 113310 ووٹرس کے بارے میں کانگریس قائدین نے دستاویزی ثبوت پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر غلط تصویروں اور غلط اڈریس کے ساتھ ناموں کو شامل کردیا گیا لیکن بوتھ لیول آفیسرس نے کوئی جانچ نہیں کی۔ نامپلی میں 277 پولنگ بوتھس ہیں اور 130 بوتھ لیول آفیسرس کو ذمہ داری دی گئی تھی لیکن گھر گھر پہنچ کر جانچ کا کام انجام نہیں دیا گیا۔ فیروز خاں نے کہا کہ اگر بوگس نام حذف کردیئے جائیں تو آزادانہ و منصفانہ رائے دہی ممکن ہے۔ کانگریس قائدین نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا۔ر