نامپلی اسمبلی حلقہ میں فیروز خان کے حق میں خاموش لہر

   

تعلیم یافتہ اور سنجیدہ رائے دہندوں کی اوّلین ترجیح، ہر گھر تعلیمی انقلاب کا وعدہ
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم میں گریٹر حیدرآباد کے24 حلقہ جات میں عوام کی نظریں نامپلی اسمبلی حلقہ پر مرکوز ہوچکی ہے۔ مسلسل تیسری مرتبہ اِس حلقہ سے قسمت آزمائی کرنے والے کانگریس امیدوار محمد فیروز خان کے حق میں رائے دہندوں کی خاموش لہر نے مخالفین کے ہوش اُڑادیئے ہیں۔ مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے مسلمانوں کو کانگریس سے دور کرنے کی سازش کو رائے دہندے اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ فیروز خان کی رکن اسمبلی کے بغیر گزشتہ 10 برسوں میں انجام دی گئی فلاحی خدمات کی ہر سطح پر ستائش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ نامپلی اسمبلی حلقہ کو غیر سماجی عناصر سے پاک بنانے کے لئے اقدامات کریں گے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے نجات دلانے کی مہم چلائی جائے گی۔ فیروز خان انتخابی جلسوں اور پدیاترا کے ذریعہ رائے دہندوں تک اپنی بات پہنچارہے ہیں۔ کئی علاقوں میں رائے دہندوں نے فیروز خان کو بھروسہ دلایا کہ پدیاترا کے بغیر بھی وہ کانگریس کی تائید کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ فیروز خان کی شریک حیات لیلیٰ خان روزانہ خاتون رائے دہندوں سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے کانگریس کے حق میں مہم چلارہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کانگریس نے جن 6 ضمانتوں کا اعلان کیا ہے اُن سے خواتین کی بھلائی ہوگی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت، ماہانہ 2500 روپئے کی امداد اور پکوان گیاس سیلنڈر کی 500 روپئے میں سربراہی سے ہر خاندان کے اخراجات میں غیرمعمولی کمی واقع ہوگی۔ لیلیٰ خان نے کہاکہ تعلیمی سہولتوں میں اضافہ کے ذریعہ فیروز خان ہر گھر میں تعلیمی انقلاب کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اِسی دوران مجلس کے انتخابی جلسوں میں کی جارہی تقاریر سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مجلسی امیدوار جو سابق میں کئی غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ رہ چکے ہیں، وہ عوامی اسٹیج سے مخالفین اور رائے دہندوں کو دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مجلسی امیدوار کے ٹریک ریکارڈ کے حساب سے نامپلی کے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ رائے دہندوں نے اِس مرتبہ کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کا من بنالیا ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے روڈ شو کے بعد سے نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی مہم میں شدت پیدا ہوچکی ہے اور رائے دہندے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کئی دہوں سے آزمودہ افراد کو دوبارہ موقع دینے کے بجائے خدمت کا جذبہ رکھنے والے فیروز خان کو منتخب کرتے ہوئے علاقہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔