حیدرآباد ۔ 5 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے چلایا جانے والا نامپلی ایریا ہاسپٹل بہت بری حالت میں ہے، جہاں کئی مرمتی کام کئے جاتے ہیں۔ اس دواخانہ کی چھت میں کئی جگہ پجر ہورہا ہے۔ ہاسپٹل لیاب میں ضروری انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔ نیز اس دواخانہ میں مریضؤں کی بڑھتی تعداد کا علاج کرنے کیلئے ڈاکٹرس اور دیگر اسٹاف کی بھی کمی ہے۔ اوسطاً روزانہ اس دواخانہ کو علاج کیلئے 150 سے زائد مریض آتے ہیں جن میں زیادہ تر حاملہ خواتین اور دوسری خواتین ہوتی ہیں۔ اس دواخانہ میں لیاب ایکوپمنٹ اور دوسری سہولتیں نہ ہونے کی وجہ وہ خانگی ڈائگناسٹک سنٹرس جانے پر مجبور ہیں۔ نامپلی ایریا ہاسپٹل کے کئی کمروں میں پجر کے مسئلہ کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک ملازم نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے واٹر پروفنگ ٹریٹمنٹ پر زور دیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ریڈہلز کے کارپوریٹر عارف رضوان نے کہا کہ اس دواخانہ میں کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹرس دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دواخانہ میں ڈاکٹرس اور ایڈوانسڈ میڈیسن کی کمی ہے۔ گذشتہ پانچ سال سے اس میں کوئی ہمہ وقتی فزیشن نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ہاسپٹل لیاب میں صرف ایک ہی اسکیاننگ مشین ہے۔ روزانہ 50 سے زائد مریض اسکیاننگ کیلئے انتظار کرتے ہیں جبیکہ ان میں صرف 20 مریض ہی اسکیاننگ کروا پاتے ہیں کیونکہ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ لیاب سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے محکمہ صحت کے عہدیداروں سے ہم نے نمائندگی کی لیکن اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے‘‘۔ عارف رضوان نے کہا کہ مقامی رکن اسمبلی جعفر حسین معراج نے حیدرآباد ڈسٹرکٹ کلکٹر کو ایک نمائندگی پیش کرتے ہوئے ان سے چھت کیلئے واٹر پروفنگ، اسپیشلسٹ ڈاکٹرس بشمول فزیشن کے تقرر اور باونڈری وال کی تعمیر کے علاوہ ہاسپٹل لیاب میں ضروری ایکوپمنٹ فراہم کرنے کی درخواست کی۔