مجلس کو کانگریس سے سخت مقابلہ درپیش، امیدوار کے انتخاب میں پس و پیش، کانگریس کو شکست دینے مشترکہ حکمت عملی کا امکان
حیدرآباد30۔اکتوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے اسمبلی حلقہ جات میں نامپلی سیاسی حلقوں اور عوام میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یوں تو شہر کے دیگر اسمبلی حلقہ جات کی طرح اس حلقہ میں بھی سہ رخی مقابلہ کا امکان ہے لیکن اس حلقہ کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھ چکی ہے کہ اس مرتبہ کانگریس نے مجلس کے اس گڑھ میں اپنا پرچم لہرانے کی تیاری کرلی ہے۔ کانگریس نے محمد فیروز خاں کو پارٹی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے جو سابق میں پی آر پی اور تلگو دیشم ٹکٹ پر اسی حلقہ سے مقابلہ کرکے مجلس کیلئے چیلنج بن چکے ہیں ۔ گزشتہ 15 برسوں سے نامپلی کے عوام کے درمیان سرگرم رہنے والے کانگریس امیدوار سے مقابلہ کرنا مجلس کیلئے آسان نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مجلس نے ابھی تک اس حلقہ کے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ گزشتہ دو میعادوں سے کامیابی پانے والے جعفر حسین معراج کو نامپلی کے بجائے پرانے شہر کے کسی حلقہ کو منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ مجلس کے علاوہ بی آر ایس و بی جے پی نے بھی نامپلی حلقہ کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تینوں پارٹیوں کو کانگریس سے مقابلہ کیلئے موزوں امیدوار دستیاب نہیں ہے۔ مجلس حلقہ میں عوامی ناراضگی سے الجھن کا شکار ہے اور مبصرین کے مطابق اگر موجودہ رکن اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا جائے تو کانگریس کی کامیابی یقینی ہوگی۔ امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں اطلاعات کے مطابق مجلسی قیادت نے مختلف اداروں کو سروے کی ذمہ داری دی ہے اور سروے رپورٹ کی بنیاد پر امیدوار کے نام کا تعین کیا جائے گا ۔ عوامی رجحان کا پتہ چلانے کیلئے مجلسی قیادت نے بیک وقت دو امکانی امیدواروں کو عوام سے ملاقات کی ذمہ داری دی ہے تاکہ موجودہ رکن اسمبلی کی کارکردگی پر رائے عامہ معلوم کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم کے معاملہ میں کانگریس کو سبقت حاصل ہے اور بی آر ایس اور بی جے پی نے ابھی تک مہم کا آغاز نہیں کیا کیونکہ دونوں پارٹیوں کی جانب سے امیدواروں کا اعلان ابھی باقی ہے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ کے رائے دہندوں کی اکثریت تعلیم یافتہ طبقہ پر مشتمل ہے ، لہذا مجوزہ انتخابات میں محض جذباتی نعروں پر ووٹ حاصل ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ کارکردگی اور امیدواروں کے بیک گراؤنڈ اور عوامی خدمت کے ریکارڈ کی بنیاد پر رائے دہندے کسی بھی پارٹی کی تائید یا مخالفت کریں گے۔ مجلس جو عوام طور پر مسلم رائے دہندوں پر انحصار کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرتی رہی ہے ، اس مرتبہ مسلم ووٹ بینک کا ایک بڑا حصہ کانگریس کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب جبکہ پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کے آغاز کے لئے صرف تین دن باقی ہیں، برسر اقتدار بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کی جانب سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان میں تاخیر سے رائے دہندوں میں یہ رجحان دیکھا جارہا ہے کہ تینوں پارٹیوں کے پاس قابل، اہل اور طاقتور امیدوار نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تینوں پارٹیوں کو کس بات کا انتظار ہے کہ وہ امیدواروں کے ناموں کے اعلان سے گریز کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تینوں پارٹیاں کانگریس کو شکست دینے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں سیکولر ووٹ کی تقسیم کے باوجود بھی بی جے پی کی کامیابی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ۔ تاہم بی جے پی کے حاصل کردہ ووٹ دیگر پارٹیوں کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ مجلس کو مسلم ووٹ بینک پر انحصار ہے اور اکثریتی طبقہ سے بہت کم ووٹ مجلس کو حاصل ہوسکتے ہیں۔ اکثریتی ووٹ بینک پر کانگریس اور بی آر ایس کی مضبوط دعویداری ہے۔ اگر کانگریس اقلیت اور اکثریت دونوں کی بیک وقت تائید حاصل کرلے تو اس کا امیدوار بآسانی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ کانگریس کے انتخابی میدان میں سرگرم ہونے کے بعد تینوں پارٹیاں اپنی انتخابی حکمت عملی کو ابھی تک قطعیت دینے سے قاصر رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مجلس اور بی آر ایس مشترکہ حکمت عملی کے تحت امیدواروں کے اعلان میں ترجیحات کیا متعین کریں گے۔ کیا بی جے پی نامپلی میں زائد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کو کامیابی سے روک پائے گی ، اس کا جواب انتخابی مہم کے دوران عوامی رجحان سے حاصل ہوگا۔