اویسی ڈٹرجنٹ پاؤڈر نے گناہوں کو دھودیا، کل کے چندہ خور آج کے پارسا بن گئے
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی نامپلی میں باشعور اور تعلیم یافتہ رائے دہندوں کا امتحان ہے جو گذشتہ کئی دہوں سے روایتی قیادت کے نمائندوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ نامپلی اسمبلی حلقہ لوک سبھا حلقہ سکندرآباد میں شامل ہے اور اسے پرانے شہر کے بجائے نئے شہر کے حلقہ کی حیثیت سے شناخت حاصل ہے۔ گذشتہ دو انتخابات میں رائے دہندوں نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کی کوشش کی لیکن لمحہ آخر میں خیر و برکت کے ووٹ کے ذریعہ مقامی جماعت نے کامیابی حاصل کرلی۔ کانگریس پارٹی نے اس مرتبہ عوام بالخصوص نوجوانوں میں مقبول اور فلاحی خدمات سے اپنی شناخت بنانے والے فیروز خاں کو امیدوار بنایا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس پارٹی اپنا کھاتہ کھول دے گی۔ عوامی مسائل کی یکسوئی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ناکامی کے سبب قیادت نے مقامی رکن اسمبلی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور جعفر حسین معراج کو پرانے شہر کے یاقوت پورہ منتقل کردیا گیا۔ سابق میئر اور صدر مجلس کے بااعتماد ماجد حسین کو امیدوار بنایا گیا ہے جو اسی حلقہ میں ایک بلدی وارڈ کے کارپوریٹر بھی ہیں۔ گذشتہ برسوں میں اراضیات پر ناجائز قبضے اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں کے ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوچکے ہیں جس میں مجلسی امیدوار کے رویہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں رائے دہندوں کا احساس ہے کہ وقتاً فوقتاً نمائندوں کی تبدیلی سے علاقہ میں ترقی اور عوامی زندگی میں سدھار آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے حق میں عوامی تائید کو دیکھنے کے بعد مقامی جماعت نے مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ سوشیل میڈیا اور دیگر ذرائع میں کانگریس امیدوار کے خلاف قابل اعتراض ویڈیوز وائرل کئے جارہے ہیں جس کا مقصد مذہبی بیاگ راؤنڈ رکھنے والے رائے دہندوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا ہے۔ شکست کے خوف سے مجلسی قیادت نے اپنے مخالفین کو ہمنوا بنانے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے ہیں جس کے نتیجہ میں کل تک مجلس اور اس کی قیادت کے خلاف آواز اٹھانے والے نوجوانوں کے ایک گروپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے مجلس کا دامن تھام لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تک نوجوانوں کا یہ گروپ مجلس کا مخالف تھا اس پر کروڑہا روپئے چندہ وصول کرتے ہوئے ہڑپنے کا الزام لگایا جاتا رہا لیکن مجلس میں شمولیت کے ساتھ ہی ’’ اویسی ڈٹرجنٹ پاؤڈر‘‘ نے سارے الزامات اور گناہوں کو دھودیا ہے۔ اکثر یہی ہوتا ہے کہ مخالف پر الزامات بوچھار کی جاتی ہے اور جیسے ہی وہ پارٹی میں شامل ہوجائے اسے پارسا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نامپلی کے رائے دہندے یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ آیا نوجوانوں کے گروپ نے کیوں اپنا موقف تبدیل کردیا۔ ظاہر ہے کہ اگر چندہ چور اپنے کاروبار میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ مقامی جماعت کا دامن تھام لیتے ہیں جس کے بعد چندہ چوری دھڑلے سے کی جاسکتی ہے۔ مخالفین کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے جس طرح کے حربے استعمال کئے گئے اس سے عوام اچھی طرح واقف ہیں اور وہ تائید سے متعلق فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر کریں گے۔ کانگریسی امیدوار کی کردار کشی کی کوششوں پر بھی رائے دہندوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ مجلسی قیادت کے پاس 10 سالہ کارکردگی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جس کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ تقسیم کرنے کیلئے بی جے پی امیدوار سے خفیہ ساز باز کرلی گئی اور اسے ہندو اکثریتی علاقوں میں کام کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ ووٹ کی تقسیم یا پھر جذباتی نعروں کے ذریعہ کامیابی کا رجحان دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا اور نامپلی کے باشعور رائے دہندے ضرور بہتر فیصلہ سنائیں گے۔