نامپلی میں فیروز خاں کو تمام طبقات کی تائید حاصل

   

مساجد میں نماز کی ادائیگی، تعلیمی اداروں اور ہاسپٹل کے قیام کا وعدہ
حیدرآباد ۔20۔نومبر (سیاست نیوز) نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی انتخابی مہم عروج پر ہے اور امیدوار محمد فیروز خاں کو تمام طبقات کی یکساں تائید حاصل ہورہی ہے۔ کانگریس کی 6 ضمانتوں کی تشہیر کے ساتھ فیروز خاں پد یاترا کے ذریعہ عوام سے ملاقات کر رہے ہیں اور انہوں نے تیقن دیا کہ نامپلی اسمبلی حلقہ میں تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ فیروز خاں روزانہ ایک بلدی ڈیویژن کا احاطہ کر رہے ہیں اور ان کے وعدوں اور تیقنات پر عوام مثبت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ نامپلی کو تعلیمی اور معاشی پسماندگی سے نجات دلاتے ہوئے فرقہ وارانہ اورمذہبی سیاست کو ناکام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس نے کانگریس کو شکست دینے کیلئے بی جے پی اور بی آر ایس سے مفاہمت کرلی ہے اور تینوں پارٹیاں کانگریس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کی جانب سے ان کے خلاف شخصی مہم کے باوجود عوام ان کے ساتھ ہیں اور پورا بھروسہ ہے کہ 30 نومبر کو عوام کا فیصلہ کانگریس کے حق میں رہے گا۔ فیروز خاں کے ہمراہ سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی راشد خاں اور دیگر مقامی کانگریس قائدین پد یاترا میں شریک ہیں۔ فیروز خاں حلقہ کی مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مصلیان اور مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے گھر گھر پہنچ کر کانگریس کے 6 تیقنات سے عوام کو واقف کرایا اور یقین دلایا کہ کامیابی کے بعد نامپلی اسمبلی حلقہ کی نئی صورت گیری ہوگی۔ نامپلی مسجد مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں سے بھی فیروز خاں ملاقات کررہے ہیں۔ اسی دوران فیروز خاں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مجلس پر بوگس رائے دہی کی تیاریوں کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بوگس ووٹرس کے بارے میں نمائندگی کے باوجود تمام بوگس نام حذف نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ نامپلی اسمبلی حلقہ میں مجلس غنڈہ گردی کے ذریعہ کانگریس کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے ۔ پولیس سے اس سلسلہ میں شکایت کردی گئی۔