عمارت انتہائی مخدوش، کرایہ جات کی عدم وصولی، تخلیہ کی کارروائی کرنے وقف بورڈ کا فیصلہ
حیدرآباد: صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج نامپلی میں واقع اہم اوقافی جائیداد بہادر الدولہ وقف جائیداد کا معائنہ کیا۔ اس قدیم جائیداد کے تحت کئی ملگیات اور رہائشی مکانات ہے لیکن یہ عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے دو سال قبل عمارت کے انہدام کے لئے نوٹس جاری کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ مجلس بلدیہ سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں اوقافی جائیداد کا کچھ حصہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے پولیس اور بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا ۔ انہوں نے کرایہ داروں سے ملاقات کی اور کرایہ جات کی عدم ادائیگی کی صورت میں قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی جانب سے عمارت کی مرمت اور تزئین نو کا کام انجام دیا جائے گا۔ جو حصہ انتہائی مخدوش ہوچکا ہے، اسے منہدم کرتے ہوئے نئی تعمیر انجام دی جائے گی۔ کئی کرایہ دار جن میں ملگیات اور رہائشی مکانات کے افراد شامل ہیں، کئی برسوں سے کرایے ادا نہیں کر رہے ہیں ۔ 2014 ء میں کرایہ میں اضافہ کے لئے دی گئی نوٹس کے بعد سے کرایہ جات کی ادائیگی روک دی گئی ۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ کرایہ داروں کو بقایہ جات کے ساتھ رقم ادا کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی جانب سے نہ صرف نوٹس بلکہ تخلیہ کی کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ، محبوب نگر ، کریم نگریس اور دیگر اضلاع جہاں کہیں بھی وقف کامپلکس ہیں ، ان کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ مدینہ بلڈنگ میں واقع مکہ مدینہ علاء الدین وقف اور نبی خانہ مولوی اکبر کے کرایہ داروں کو چاہئے کہ وہ باقاعدہ اپنے کرایے ادا کرے۔ وقف بورڈ نے کرایہ جات کی وصولی کی خصوصی مہم شروع کی ہے ۔ اس سلسلہ میں عہدیداروں پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی ہے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے قابضین کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے بعد غریبوں کو تعلیم اور علاج کے لئے امداد دی جائے گی ۔ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 2000 روپئے وظیفہ کی تجویز ہے جس کی منظوری بورڈ میں حاصل کی جائے گی ۔ بہادر الدولہ وقف کے تحت تقریباً 40 کرایہ دار ہیں ، ان میں سے چند ایک انتہائی معمولی کرایہ ادا کررہے ہیں۔ تخلیہ کی کارروائی سے قبل غیر مجاز افراد کو چاہئے کہ وہ وقف بورڈ کے کرایہ دار بن جائیں۔