نامپلی میں کانگریس امیدوار کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم سے عوام میں ناراضگی

   

فیروز خاں کی عوامی خدمات سے ہر گھر واقف، مجلسی قیادت عوام سے معذرت خواہی پر مجبور
حیدرآباد ۔24۔نومبر (سیاست نیوز) نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار کے خلاف مجلس کی جانب سے سوشل میڈیا پر بے بنیاد مخالف مہم سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کانگریس امیدوار محمد فیروز خاں کی سوشل میڈیا ٹیم نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صدر مجلس اسد اویسی اور مجلسی امیدوار ماجد حسین سے متعلق کئی ایسے انکشافات کئے ہیں جس پر رائے دہندے حیرت میں ہیں۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں پد یاترا اور عام جلسوس سے زیادہ سوشل میڈیا کے ذریعہ انتخابی مہم چلائی جارہی ہے اور رائے دہندوں کو جلسوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے ذریعہ معلومات حاصل ہورہی ہیں۔ گزشتہ 15 برسوں سے نامپلی اسمبلی حلقہ کی ترقی کو نظر انداز کرنے والی مقامی جماعت نے الیکشن کے موقع پر عوام کو اپنے کارناموں یا پھر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں واقف کرانے کے بجائے کانگریس امیدوار کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ انتخابی مہم میں عام طور پر رائے دہندوں سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے کارناموں کی فہرست یا پھر منتخب ہونے پر عمل کئے جانے والے منشور سے واقف کرایا جاتا ہے۔ چونکہ مقامی جماعت کے پاس کوئی کارنامہ نہیں ہے، لہذا شکست کے خوف سے فیروز خاں کے انتہائی قدیم ویڈیوز کو نئے کی طرح پیش کرتے ہوئے وائرل کیا جارہا ہے ۔ فیروز خاں نے عوام پر واضح کردیا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کی مہم سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ نامپلی اسمبلی حلقہ کا ہر رائے دہندہ ان کی عوامی خدمات سے بخوبی واقف ہے۔ رکن اسمبلی کے عہدہ کے بغیر ہی فیروز خاں نے رکن اسمبلی سے زیادہ عوام کی خدمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی کی تلنگانہ میں لہر اور پھر فیروز خاں کے حق میں عوامی ہمدردی نے مقامی جماعت کے ہوش اڑادیئے ہیں اور اس نے بے بنیاد الزامات اور گمراہ کن ویڈیوز کا سہارا لیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ نتیجہ کے بارے میں خوفزدہ ہے ۔ مجلسی امیدوار کے بارے میں رائے دہندوں میں اچھی رائے نہیں ہے جس کے نتیجہ میں صدر مجلس کو کئی بستیوں میں جاکر عوام سے معذرت خواہی کرنی پڑ رہی ہے ۔ اراضی معاملات اور غیر سماجی عناصر کی سرپرستی کے الزامات کا سامنا کرنے والے مجلسی امیدوار کی انتخابی تقاریر میں غیرپارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ دنوں فیروز خاں کے شخصی منشور پر سوال اٹھاتے ہوئے مجلسی امیدوار نے کچھ ایسے ریمارکس کئے جنہیں تحریر میں شامل نہیں کیا جاسکتا جس پر حلقہ کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ رائے دہندے سخت ناراض ہیں۔ شہر کے دیگر اسمبلی حلقہ جات کی طرح نامپلی پر سارے تلنگانہ کی نظر ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ نامپلی کا نتیجہ چونکا دینے والا ثابت ہوگا۔ انتخابی مہم جیسے جیسے اختتامی مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے ، رائے دہندے کانگریس کے حق میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنے لگے ہیں۔