تخلیہ اور وقف بورڈ کے حوالے کرنے قابضین کو ہدایت، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا اظہار مسرت
حیدرآباد۔4 ۔اگست (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں تلنگانہ وقف بورڈ کو اس وقت اہم کامیابی ملی جب نامپلی میں واقع درگاہ میر رحمت علی شاہ کے قبرستان کے تحفظ کے لئے عدالت نے وقف بورڈ کے موقف کی تائید کی ہے ۔ نامپلی میں مسجد ٹیک سے متصل میر رحمت علی شاہ قبرستان کی 998.66 مربع گز اراضی وقف نوٹیفائیڈ ہے جس کا تذکرہ منتخب نمبر 998 میں موجود ہے۔ اس اراضی پر ایک شخص نے قبضہ کرتے ہوئے لکڑی کا کاروبار شروع کردیا تھا۔ اراضی کو ہوٹل کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس اے ایس بوپنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اپنے فیصلہ میں اسے اوقافی اراضی قرار دیا اور اندرون تین ماہ تخلیہ کرتے ہوئے اراضی بورڈ کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے قلب شہر میں واقع اس قیمتی اراضی کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی لی اور سپریم کورٹ کے وکیل اعجاز مقبول کی خدمات حاصل کی گئیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات میں سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر نمائندگی کے نتیجہ میں کئی اہم جائیدادوں کے تحفظ میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 500 سے زائد وقف اراضیات کے غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کرائے گئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے جی او جاری کرتے ہوئے رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو پابند کیا کہ کسی بھی اوقافی اراضی یا جائیداد کا رجسٹریشن نہ ہونے پائیں۔ وقف بورڈ نے تمام سب رجسٹرار دفاتر میں وقف ریکارڈ کی تفصیلات فراہم کردی ہیں جس کی بنیاد پر غیر قانونی رجسٹریشن روکنے میں مدد ملی ہے۔