دوسرے کورونا کے مریضوں کو بچانے والی ڈاکٹر ہیماجہ اپنی نانی کو نہیں بچا سکی
حیدرآباد :۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے احاطے میں کورونا سے متاثر نانی نے نواسی کی گود میں دم توڑ دیا ۔ ملک اور ریاست میں کورونا کے متاثرین کی کوئی مدد نہ کرنے خونی رشتوں کی دوری ، نعشیں ندی میں بہا دینے کی خبریں پڑھی گئی ہے ۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو خود کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ ہونے کے باوجود اپنوں کی مدد کے لیے آگے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر ہیماجہ امیر پیٹ کے نیچر کیور ہاسپٹل میں خدمات انجام دیتی ہیں کئی کورونا مریضوں کا علاج کے ذریعہ جان بچانے کا اس ڈاکٹر کو اعزاز حاصل ہے ۔ کوکٹ پلی میں رہنے والی ڈاکٹر ہیماجہ کورونا سے متاثر 62 سالہ نانی کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے پر آٹو میں لے کر کنگ کوٹھی ہاسپٹل پہونچی اور ہاسپٹل میں شریک کرانے اپنی نانی کو آٹو میں چھوڑ کر ہاسپٹل پہونچی دوسری طرف نانی کا آکسیجن لیول گھٹ رہا تھا ۔ آکسیجن لیول گھٹ کر 42 ہونے پر ہاسپٹل کے احاطے میں موجود آکسیجن کنٹریڈ کی مدد سے آکسیجن فراہم کی گئی ۔ کنگ کوٹھی ہاسپٹل کے عہدیداروں نے ایمرجنسی کیس کے طور پر انہیں گاندھی ہاسپٹل یا عثمانیہ ہاسپٹل منتقل کرنے کا مشورہ دیا جس پر ڈاکٹر ہیماجہ نے اپنی نانی کو لے کر عثمانیہ ہاسپٹل پہونچی اور انہیں بتا رہی تھی ان کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے کئی ڈاکٹرس یہاں کام کررہی ہیں ۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا تمہارا بہتر سے بہتر علاج ہوگا ۔ ابھی وہ اپنے الفاظ پورے بھی نہیں کرپائی تھی کہ نانی نے ان کے گود میں ہی دم توڑ دیا ۔۔