نان روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان

   

ریکارڈ مہنگائی کے سبب نانبائی افراد قیمتوں پر غور کرنے مجبور
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں اب نان کی روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ روٹی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اجزاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمت بڑھانے کا امکان ہے ۔ نان کی روٹی ایک فارسی بریڈ ہے ۔ جو خاص طور پر حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع متعدد دکانوں میں پکائی اور فروخت کی جاتی ہے ۔ حیدرآباد میں منشی نان 1851 میں قائم کی گئی ۔ یہ سب سے قدیم ترین نان کی دکان ہے ۔ بہت سی دکانوں میں نان کی قیمت 16 تا 18 روپئے تک فروخت کی جارہی ہے جب کہ نمایاں جگہوں پر اسے 20 روپئے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ نان بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اہم اجزاء میدہ ( آٹا ) کے ساتھ خوردنی تیل دہی اور خمیر ہیں ۔ میدہ کی قیمت میں اوسطاً 600 روپئے فی کنٹل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ میدہ اب 3600 سے 4600 روپئے فی ٹن کی قیمت پر فروخت ہوتا ہے ۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ اجزاء ، کوئلے اور مزدوری کی اجرت کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کرنا لازمی ہوگیا ہے ۔ اگر ہم قیمت نہیں بڑھاتے ہیں تو ہمیں نان کا سائز یا وزن کم کرنا پڑے گا ۔ نان کا وزن اوسطاً 150 گرام ہوتا ہے ۔ خصوصی آرڈر ملنے پر ہمارے پاس ہر ایک نان کا وزن 200 گرام ہوتا ہے ۔ پرانی حویلی میں نصف درجن دکانیں ہیں جو پانچوں شکلوں مربع ، بیضوی ، گول ، ستارے اور پین یا دل کی شکلوں میں نان تیار کرتے ہیں ۔ پرانی حویلی میں نان کی دکانیں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں روٹی فروخت کرتے ہیں ۔ روٹی کو صبح اور شام کے وقت تندور میں پکایا جاتا ہے ۔ قدیم منشی نان جسے 1851 میں محمد حسین نے شروع کیا تھا ۔ وہ چوتھے نظام کے دفتر میں کلرک (منشی ) کے طور پر کام کرتے تھے او راس دکان کو اس وجہ سے منشی نان کا نام مل گیا ۔۔ ش