اوسلو ۔ 29 اگست (ایجنسیز) ناروے پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ایتھوپین نژاد سماجی کارکن کے قتل کے الزام میں گرفتار 18 سالہ نوجوان نے اوسلو کی ایک مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملزم کو ہفتہ کی رات اوسلو کے ایک ہوسٹل میں 34 سالہ سماجی کارکن تمیما نِبراس جوہار کے قتل کے بعد گرفتار کیا گیا۔ مقتولہ ہوسٹل کی اسٹاف ممبر جبکہ ملزم وہاں رہائشی تھا۔پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل اور دہشت گردی دونوں الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں کیونکہ اس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ اوسلو سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں واقع فوس کی ایک مسجد پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان کی مزید حملے کرنے کی صلاحیت محدود تھی اور وہ اکیلا ہی کارروائی کر رہا تھا۔