این نرسمہیا کے فرزند متوقع امیدوار، وزراء اور سینئر قائدین کو انچارج مقرر کیا گیا
حیدرآباد: تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کامیابی کے لئے اپنے کیڈر کو متحرک کردیا ہے ۔ دوباک میں بی جے پی کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹی آر ایس ناگرجنا ساگر میں ابھی سے متحرک ہوچکی ہے تاکہ نشست پر دوبارہ قبضہ کیا جاسکے ۔ پارٹی نے حلقہ کے 7 منڈلوں کے تمام دیہی علاقوں کے لئے قائدین کو بطور انچارج مقرر کیا ہے جو ابھی سے انتخابی مہم کا آغاز کرچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹی آر ایس نے امیدوار کے نام کا اعلان کیا لیکن سابق رکن اسمبلی آنجہانی این نرسمہیا کے فرزند نے مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ انہیں امید ہے کہ پارٹی امیدوار بنائے گی اور عوامی تائید حاصل ہوگی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر جگدیش ریڈی اور دیگر سینئر قائدین کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی ہے۔ اس حلقہ میں رائے دہندوں کی تعداد 2 لاکھ 17 ہزار 142 ہے اور بی سی رائے دہندوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقہ میں یادو طبقہ کے رائے دہندوں کی تعداد 35,000 سے زائد ہیں ۔ ایس ٹی طبقہ کے 15,000 جبکہ ایس سی طبقہ کے 32 ووٹرس ہیں۔ ریڈی ووٹرس کی تعداد 25,000 بتائی جاتی ہے جبکہ مسلمان تقریباً 20 ہزار ہیں۔ ٹی آر ایس نے پسماندہ طبقات کے علاوہ مسلم رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مقامی مسلم قائدین نے ٹی آر ایس کی تائید کیلئے حلقہ میں اقلیتوںکی بھلائی کے مختلف اقدامات کی شرط رکھی ہے۔ مقامی قائدین نے حال ہی میں وزیر داخلہ محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے مقامی مسائل سے واقف کرایا ۔ وزیر اینمل ہیسنبڈری سرینواس یادو اور یادو طبقہ کے دیگر ارکان اسمبلی ناگرجنا ساگر میں یادو طبقہ میں مہم چلا رہے ہیں۔ ایس ٹی طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ریاستی وزیر ستیہ وتی راتھوڑ کے علاوہ ارکان اسمبلی رویندر نائک ، شنکر نائک اور ریڈیانائک کو مختلف علاقوں میں انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے تمام طبقات کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس علاقہ میں ٹی آر ایس کو کانگریس سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ کیونکہ سابق سی ایل پی لیڈر کے جانا ریڈی کانگریس امیدوار ہوں گے۔ اس علاقہ میں جانا ریڈی کا کافی اثر ہے اور وہ سابق میں چار مرتبہ اس حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔