ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کیلئے 150 کروڑ کی ترقیاتی اسکیمات

   

چیف منسٹر کا دورہ ، جائزہ اجلاس، شادی خانہ کیلئے اراضی کی منظوری

حیدرآباد۔2 ۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے طور پر 150 کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے آج ناگرجنا ساگر کے ہالیہ گاؤں پہنچ کر عہدیداروں کے ساتھ حلقہ کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ ضمنی انتخابات کے موقع پر چیف منسٹر نے جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری کے لئے 150 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر نے جائزہ اجلاس کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ کی ترقی کیلئے کئی اعلانات کئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اعلانات پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عمل آوری پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو شاندار کامیابی دلانے پر رائے دہندوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کے سبب ناگرجنا ساگر کے دورہ میں تاخیر ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ خود بھی کورونا سے متاثر ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں الیکشن کے فوری بعد وہ ناگرجنا ساگر کا دورہ نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ میں کئی مسائل طویل عرصہ سے زیر التواء ہے ۔ رکن اسمبلی این بھگت نے مسائل کے بارے میں واقف کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر مختلف ارکان اسمبلی نے ناگرجنا ساگر میں کام کیا تھا جس کے نتیجہ میں انہیں حلقہ کے زیر التواء مسائل کا علم ہوا ۔ ارکان اسمبلی نے مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے حکومت کو رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ میں بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ہالیہ گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد انہیں مسائل کے بارے میں اندازہ ہوا ہے ۔ ہالیہ گاؤں میں ایک بھی سڑک بہتر حالت میں نہیں ہے۔ ڈرینج نظام کا کوئی پتہ نہیں۔ حکومت ان تمام مسائل کو مرحلہ وار انداز میں پورا کرے گی۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ اندرون ایک ہفتہ اراضیات کے کاغذات حوالے کئے جائیں گے جس کے تحت ملکیت کا تعین ہوگا۔ انہوں نے نندی کنڈہ اور ہالیہ میونسپلٹیز کے لئے 15 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کاموں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے حلقہ میں نئے ڈگری کالج کے قیام کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے منی اسٹیڈیم کی تعمیر کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر اینڈ بی اور پنچایت راج سڑکوں کی تعمیر کیلئے 120 کروڑ منظور کئے جائیں گے ۔ حلقہ میں ریڈی کلیان منڈپم کی تعمیر کیلئے اراضی منظور کی جائے گی ۔ انہوں نے شادی خانہ کی تعمیر کیلئے اراضی مختص کرنے کا اعلان کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حلقہ میں 15 لفٹ اریگیشن اسکیمات کا آغاز کیا جائے گا ۔ دیورکنڈہ میں 5 ، مریال گوڑہ 5 ، نکریکل میں ایک لفٹ اریگیشن اسکیم کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر نے بنیادی طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے پرائمری ہیلت سنٹرس اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہاکہ آروگیہ شری اسکیم کی بہتر کارکردگی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ تلنگانہ میں تمام سرکاری دواخانوں میں موجود 18 ہزار بستروں کو آکسیجن سے مربوط کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں 7 نئے میڈیکل کالجس منظور کئے گئے ہیں جن کی کارکردگی کا آئندہ تعلیمی سال سے آغاز ہوگا ۔ چیف منسٹر نے آنے والے دنوں میں 33 ضلع ہیڈکوارٹرس پر میڈیکل کالجس کے قیام اور ہر کالج میں 50 بستروں کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ حیدرآباد میں 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل تعمیر کئے جائیں گے۔ سوریا پیٹ اور نلگنڈہ میں میڈیکل کالجس قائم کئے جارہے ہیں۔