چار ماہ قبل کانگریس کے امیدوار جانا ریڈی کی انتخابی مہم کا آغاز ، تلگو دیشم کے امیدوار کا بھی اعلان
حیدرآباد :۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخاب کے لیے شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں ۔ کانگریس پارٹی نے پہلی مرتبہ شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی سابق قائد مقننہ کے جانا ریڈی کو امیدوار بنانے کا اعلان کردیا ۔ واضح رہے کہ جانا ریڈی بہت پہلے سے اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے ہیں ۔ دو دن قبل گریجویٹ کونسل انتخابات میں مصروف رہنے والی حکمران ٹی آر ایس اپنی ساری توجہ ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخاب پر مرکوز کرچکی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد ٹی آر ایس پارٹی اپنے امیدوار کا اعلان کرے گی ۔ تلگو دیشم پارٹی نے بھی مقامی قائد ایم ارون کمار کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایم آر پی ایس کے بانی صدر ایم کرشنا مادیگا نے بھی ناگرجنا ساگر سے قسمت آزمانے کا اعلان کیا ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی آنجہانی رکن اسمبلی کے فرزند بھگت یادو ، ایم سی کوٹی ریڈی ، گرویا یادو ، ایم رنجیت یادو ، ٹی چنپا ریڈی اور تلنگانہ قانون ساز کونسل کے صدر نشین جی سکھیندر ریڈی کے ناموں پر غور کررہی ہے ۔ دوباک ضمنی انتخابات اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں شکست کے بعد ٹی آر ایس قیادت امیدوار کے معاملے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے کیوں کہ کانگریس کے امیدوار کے جانا ریڈی طاقتور قائد ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر چاہتے ہیں کہ ضمنی انتخابات کسی بھی طرح جیتا جائے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے گریجویٹ حلقہ کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے طلب کردہ اجلاس میں پارٹی کے قائدین کو بتایا کہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو 48 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے جب کہ کانگریس 35 تا 38 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے گی ۔ جب کہ بی جے پی 7 تا 8 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہے گی ۔ اس لیے امیدوار کے انتخاب کے معاملے میں سونچ سمجھ کر فیصلہ کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے ڈاکٹر روی کمار نائک ، اندرا سین ریلای ، نویدتا ریڈی اور انجیا یادو کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ۔ دو تین دن میں پارٹی کے کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں بی جے پی امیدوار کے نام کو قطعیت دینے کا قوی امکان ہے ۔ واضح رہے کہ کانگریس کے امیدوار کے جانا ریڈی گذشتہ دسمبر سے ہی اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے ہیں ۔ دن میں گاوں کا دورہ کررہے ہیں اور راتوں میں قائدین سے ٹیلی فون پر باتیں کررہے ہیں ۔۔