ناگرجنا ساگر میں اقلیتی رائے دہندوں کی تائید کانگریس کے ساتھ

   

مسجد منوریہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسلمانوں سے محمد علی شبیر کی ملاقات
حیدرآباد: حلقہ اسمبلی ناگرجنا ساگر میں ہالیہ میونسپلٹی کے اقلیتی رائے دہندوں نے کانگریس امیدوار جانا ریڈی کی تائید کا تیقن دیا ہے۔ نماز جمعہ کے موقع پر سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے مقامی کانگریس قائدین کے ہمراہ مسجد منوریہ میں نماز جمعہ ادا کی اور بعد میں مقامی مسلمانوں سے ملاقات کی ۔ مسجد کے باہر مقامی مسلمانوں نے محمد علی شبیر سے ملاقات کے دوران یقین دلایا کہ وہ سیکولر قائد جانا ریڈی کی تائید کریں گے جنہوں نے گزشتہ 7 مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہونے کے بعد بلا لحاظ مذہب و ملت خدمات انجام دی ہیں۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ مذہبی شخصیتوں اور ائمہ اور مؤذنین نے بھی کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سیکولرازم کے تحفظ اور ترقی کے لئے کانگریس کی کامیابی ضروری ہے۔ انہوں نے مسلم رائے دہندوں سے کہا کہ ٹی آر ایس نے 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا ہے۔ حکومت کے قیام کے بعد اندرون چار ماہ تحفظات فراہم کرنے کا کے سی آر نے وعدہ کیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ کانگریس حکومت نے چار فیصد تحفظات فراہم کئے جس کے تحت میڈیسن اور انجنیئرنگ میں ہزاروں مسلم طلبہ کو داخلہ حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور روزگار کے شعبہ جات میں تحفظات سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا جبکہ کے سی آر تحفظات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت اور طاقت کے ذریعہ ٹی آر ایس قائدین ناگرجنا ساگر میں کامیابی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہ حقیقی خدمات گزار کے طور پر جانا ریڈی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔