حیدرآباد ۔ اہم سیاسی جماعتیں ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کو وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے مقامی سرپنچس اور ایم پی ٹی سی ارکان کے ذریعہ ووٹرس پر اثر انداز ہونے کے لئے نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔ اسی کے ایک حصہ کے طور پر ٹی آر ایس۔ کانگریس اور بی جے پی سرپنچوں کو اپنی اپنی پارٹیوں میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حریفوں جماعتوں کے سرپنچس اور ایم پی ٹی سی ارکان پرکشش آفر دے رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ سریپورہ رام منڈل کے ایک سرپنچ کو ایک اہم پارٹی میں اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکش جس پر اس سرپنچ نے کہا کہ وہ سرپنچ کے عہدے پر منتخب ہونے کے لئے 15 لاکھ روپے خرچ کرچکے ہیں۔ اگر وہ اخراجات دیتے ہیں تو وہ پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے۔ سرپنچ کی پیشکش کو پارٹی نے قبول کرلیا اور سرپنچ نے پارٹی تبدیل کرلیا اور ایک سرپنچ نے 50 لاکھ روپے کے ترقیاتی کام حوالے کرنے کے پیشکش پر پارٹی تبدیل کرلیا۔ ایک رکن اسمبلی نے گوپالا پورم کے کانگریس کے سرپنچ کو پارٹی تبدیل کرنے کی دو مرتبہ پیشکش کی جس کو سرپنچ نے ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جب وہ بیمار تھا ہمارے قائد نے 10 لاکھ روپے سے میری مدد کی۔ برہم ہونے والے اس رکن اسمبلی نے پنچایت کے عہدیداروں کو فون کیا۔ جس پر وہ پہنچ کر ایم بی ریکارڈس اور دوسرے ریکارڈس اٹھاکر لے گئے۔ ان ریکارڈس کی آڈیٹ مکمل ہونے کی اطلاع دینے پر بھی عہدیداروں نے دوسرے دن سرپنچ کے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے احتجاج پر ریکارڈس واپس کیا گیا۔ چند دنوں سے جاری اس سیاسی کھیل سے کانگریس کے تین سرپنچس اور دو ایم پی ٹی سی ارکان نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی اور ٹی آر ایس سے دوسرپنچس کانگریس میں شامل ہوگئے۔ کانگریس سے ایک سرپنچ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ انتخابات میں نقد رقم تقسیم کرنا سیاسی جماعتوں کے لئے عام بات ہے، مگر ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں ہر پارٹی مخالف پارٹی قائدین اور سرگرم کارکنوں سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے ان کی جانب سے پارٹی تبدیل ناکرنے کے باوجود ان کے کے لئے اندرونی طور پر کام کرانے اور ووٹ ڈالنے کے لئے بھاری رقم اڑا رہی ہے۔ رائے دہندوں اور پارٹی کارکنوں کو خوش کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر شراب تقسیم کرنے کے ساتھ بڑے پیمانے پر دعوتوں کا بھی اہتمام کررہی ہے۔