ناگرجنا ساگر پراجکٹ کے قریب تلگو ریاستوں کی پولیس میں کشیدگی

   

آندھراپردیش کیلئے جبراً پانی کا حصول، تلنگانہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
حیدرآباد ۔یکم۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ناگرجنا ساگر پراجکٹ کے پاس دونوں تلگو ریاستوں کے درمیان کشیدہ صورتحال کو دور کرنے کیلئے چیف سکریٹری سطح کی بات چیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آندھراپردیش نے رائیٹ کنال ہیڈ ریگولیٹر اور 26 میں سے 13 کریسٹ گیٹ پر کنٹرول کے لئے 700 سے زائد مسلح پولیس جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے بھی پولیس فورس کو تعینات کیا جو ڈیم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انتخابی ڈیوٹی کی تکمیل کے ساتھ ہی اضافی فورس کو ناگرجنا ساگر روانہ کردیا گیا۔ اسی دوران مرکزی وزارت جل شکتی اور کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق آندھراپردیش حکومت رائیٹ کنال سے پانی حاصل کر رہی ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں دو ٹی ایم سی سے زائد پانی آندھراپردیش کے لئے جاری کیا گیا ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی پانی کی ضرورت کی تکمیل اور نلگنڈہ اور کھمم کو سربراہی کیلئے 15 ٹی ایم سی پانی درکار ہے۔ مئی 2024 ء تک تلنگانہ کا حق برقرار رہے گا۔ دونوں ریاستوں میں کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو تیقن دیا تھا کہ الاٹ کردہ پانی استعمال کریں گے لیکن رائے دہی کے دن آندھراپردیش نے جبراً پانی کی نکاسی کا آغاز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں ناگرجنا ساگر کے پاس صورتحال کشیدہ ہے۔ دونوں ریاستوں کی پولیس اور آبپاشی کے عہدیدار موجود ہیں۔ اسی دوران آندھراپردیش پولیس کے خلاف ناگرجنا ساگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی کہ اجازت کے بغیر پولیس نے جبراً مداخلت کی ہے۔