12 ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس کی مہم شروع کردی، جانا ریڈی کی مہم عروج پر
حیدرآباد: ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کو امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں داخلی مسائل کا سامنا ہے۔ کانگریس نے ایک ماہ قبل ہی جانا ریڈی کی امیدواری کا اعلان کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں داخلی اختلافات کے نتیجہ میں امیدوار کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوپارہاہے ۔ الیکشن کمیشن نے کل نوٹیفکیشن جاری کردیا اور پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے۔ کے جانا ریڈی 29 مارچ کو پرچہ نامزدگی داخل کریں گے، تاہم انہوں نے ابھی سے منڈلوں کا دورہ کرتے ہوئے رائے دہندوں سے ملاقات کا آغاز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس نے 12 سے زائد ارکان اسمبلی کو ناگرجنا ساگر کی انتخابی مہم کی ذمہ داری دی ہے اور اسمبلی اجلاس کے باوجود ارکان اسمبلی انہیں الاٹ کردہ دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ریاستی وزراء 26 مارچ کو اسمبلی اجلاس کے اختتام کے بعد انتخابی مہم میں شامل ہوں گے۔ بی جے پی کو ٹی آر ایس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کا انتظار ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے پارٹی کے مختلف گوشوں سے مشاورت کے بعد امیدوار کے بارے میں فیصلہ کو راز میں رکھا ہے ۔ پارٹی کے بعض قائدین آنجہانی این نرسمہیا کے فرزند کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دیگر قائدین دوباک کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے کسی اور مقامی قائد کو امیدوار بنانے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوباک میں ہمدردی کی لہر میں کوئی کام نہیں کیا۔ وہاں پر آنجہانی رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی کی بیوہ کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دیا تھا لیکن کامیابی بی جے پی کی ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کو ٹی آر ایس کے فیصلہ کا انتظار اس لئے بھی ہے کیونکہ ٹکٹ سے محرومی کی صورت میں ناراض قائدین بی جے پی کا رخ کرسکتے ہیں۔