سینئر قائدین سے مشاورت ، 200 کروڑ کے کاموں کی منظوری، امکانی امیدواروں پر غور
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حلقہ اسمبلی ناگر جناساگر کے ضمنی انتخاب پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پارٹی قائدین سے امکانی امیدوار کے مسئلہ پر مشاورت کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فارم ہاوز میں طویل قیام کے بعد واپسی کے ساتھ ہی چیف منسٹر نے سرکاری اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ انہوں نے اپنے قریبی قائدین اور مشیروں کے ساتھ ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ کے علاوہ کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات پر مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کسی بھی صورت میں تینوں انتخابات میں کامیابی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ رکن اسمبلی این نرسمہیا کے دیہانت کے سبب ضمنی چناؤ یقینی ہوچکا ہے۔ دوباک کی طرح شکست سے بچنے کیلئے حکومت نے ناگر جنا ساگر میں زیر التواء ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپوزیشن کی تنقیدوں سے بچا جاسکے۔ حکومت نے نرسمہیا کے دیہانت کے بعد حلقہ میں 200 کروڑ روپئے کے کاموں کو منظوری دی ہے۔ دوباک میں ترقیاتی کاموں کو نظرانداز کرنے کے نتیجہ میں بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ضمنی چناؤ میں نرسمہیا کے فرزند این بھرت کو امیدوار بنانے کے حق میں ہے تاکہ ٹی آر ایس کے علاوہ بائیں بازو کے ووٹ حاصل ہوسکیں کیونکہ نرسمہیا ٹی آر ایس میں شمولیت سے قبل سی پی ایم کے سینئر قائد و رکن اسمبلی تھے۔ ناگرجنا ساگر میں بائیں بازو جماعتوں کا خاصہ اثر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس سے مضبوط امیدواروں کے میدان میں آنے کی صورت میں ٹی آر ایس کیلئے صدر نشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی دوسرے امکانی امیدوار ہوسکتے ہیں۔ اس بارے میں قطعی فیصلہ انتخابات سے عین قبل سروے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ دوباک میں آنجہانی رکن اسمبلی کی بیوہ کو ٹکٹ دیا گیا تھا جو شکست کا سبب بنا۔ بی جے پی نے ابتداء میں کانگریس کے سینئر لیڈر جانا ریڈی کو پارٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دی لیکن اسے ناکامی ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی جانا ریڈی کی امیدواری کے ساتھ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ نرسمہیا سے قبل جانا ریڈی اس حلقہ کی نمائندگی کرتے تھے۔ کانگریس قائدین کا احساس ہے کہ صرف جانا ریڈی ہی پارٹی کو کامیابی دلاسکتے ہیں۔ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ میں ریڈی اور یادو طبقات کے رائے دہندے قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ 2018 میں بی جے پی امیدوار سچترا ریڈی کو محض ایک فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ بی جے پی اس مرتبہ تلگودیشم سے پارٹی میں شامل ہونے والے قائد کے انجیا کو امیدوار بنانا چاہتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے مقامی قائدین نے نرسمہیا کے فرزند کو امیدوار بنانے کی تائید کی ہے جبکہ چیف منسٹر اس مسئلہ میں سروے کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔