جانا ریڈی سے مقابلہ آسان نہیں، امیدوار کے مسئلہ پر برسراقتدار پارٹی میں اختلافات
حیدرآباد۔ ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کو موزوں امیدوار کی تلاش ہے جبکہ کانگریس نے سابق اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی کی امیدواری کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے۔ کونسل کی دو گریجویٹ نشستوں کے چناؤ کے بعد ناگرجنا ساگر کا ضمنی چناؤ ممکن ہے جہاں ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی این نرسمہیا کے دیہانت کے سبب ضمنی چناؤ یقینی ہوچکا ہے۔ ناگرجنا ساگر حلقہ میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ضرور ہے لیکن حکومت کی کارکردگی سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوسکتا ہے۔ امیدوار کے انتخاب کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کے اندرونی اختلافات بھی قیادت کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔ نرسمہیا کے حامی اور افراد خاندان آنجہانی رکن اسمبلی کے فرزند کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ٹی آر ایس کے مقامی قائدین کا احساس ہے کہ جانا ریڈی سے مقابلہ کیلئے کسی مقامی قائد کو ٹکٹ دیا جانا چاہیئے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد پارٹی امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ جانا ریڈی جو پانچ مرتبہ اس حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں وہ اپنی کامیابی کے بارے میں پُرامید ہیں۔ بی جے پی بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو جانا ریڈی کے مقابل میدان میں لانا چاہتی ہے جبکہ ٹی آر ایس بی سی طبقہ میں یادو کمیونٹی کے قائد کو امیدوار بناسکتی ہے۔ اس حلقہ کیلئے رکن اسمبلی چنپا ریڈی، بھگت یادو اور قانون ساز کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی کے نام زیر غور ہیں۔ بی جے پی جن ناموں پر غور و خوض کررہی ہے ان میں کے انجیا یادو، اندرسین ریڈی اور روی نائیک شامل ہیں۔ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا بہت جلد انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔ بی جے پی دوباک کی طرح ناگرجنا ساگر میں کامیابی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور اس نے ٹی آر ایس اور کانگریس کے کئی سینئر قائدین کو پارٹی میں شمولیت کی ترغیب شروع کردی ہے۔ کانگریس قائدین کا ماننا ہے کہ اگر متحدہ طور پر مقابلہ کریں تو جانا ریڈی کی کامیابی یقینی ہوگی۔