نبیلہ سید کا الینوائے ایوان نمائندگان کیلئے دوسری مرتبہ انتخاب

   

حیدرآبادی والدین سید معز الدین و دیگر ارکان خاندان میں خوشی کی لہر ، تین مسلم امیدوار امریکی کانگریس کیلئے منتخب
ریاض احمد
حیدرآباد ۔ 6 ۔ نومبر : امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ ، ڈیموکریٹ کملا ہیرس کو شکست دے کر 47 ویں صدر منتخب ہوگئے ۔ امریکی صدارتی انتخابات کی 230 سالہ تاریخ میں کوئی بھی خاتون صدر منتخب نہ ہوسکی ۔ 2016 کے صدارتی انتخابات میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے اہلیہ ہیلاری کلنٹن نے بھی مقابلہ کیا تھا اور سمجھا جارہا تھا کہ وہ کامیاب ہوجائیں گی لیکن انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس مرتبہ یہی توقع کی جارہی تھی کہ ٹرمپ کو ان سے 19 سالہ چھوٹی عمر کی کملا ہیرس سے شکست ہوگی اس ضمن میں کئی سیاسی پنڈتوں نے پیش قیاس بھی کی تھی کہ کملا ہیرس کامیاب ہوں گی لیکن تمام پیش قیاسیاں غیر درست ثابت ہوئیں ۔ اگر ان انتخابی نتائج کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 3 مسلم امیدواروں راشیدہ طلیب ، الہان عمر اور اینڈرے کارسن نے امریکی ایوان نمائندگان میں اپنی نشستیں برقرار رکھی ہیں ۔ ڈیموکریٹک نمائندہ راشدہ طلیب امریکی کانگریس کی واحد فلسطین نژاد امریکی رکن ہیں وہ چوتھی مرتبہ مشی گان کی 12 ویں کانگرشنل ڈسٹرکٹ سے منتخب ہوئیں ۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کی شدید مخالفت کی تھی ۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ راشدہ طلیب کو سخت نا پسند کرتے ہیں ۔ ماضی میں انہوں نے راشدہ اور الہان عمر کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے ۔ دوسری طرف مینی سوٹا سے الہان عمر تیسری میعاد کے لیے منتخب قرار دی گئیں ہیں ۔ الہان عمر صومالیہ نژاد امریکی ہیں انہوں نے بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کی تھی ۔ اسی طرح اینڈرے کارسن نے بھی انڈیانا کی 7 ویں ڈسٹرکٹ سے ریپبلکن امیدوار کو ہرایا وہ امریکی کانگریس کے لیے پہلی مرتبہ 2008 میں منتخب ہوئے تھے ۔ دوسری طرف حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نبیلہ سید نے الینوائے ایوان نمائندگان کے لیے 51 ڈسٹرکٹ سے دوسری مرتبہ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔ 2022 میں جب کہ ان کی عمر صرف 23 سال تھی نبیلہ نے اس حلقہ سے ریپبلکن امیدوار CHRIS BOS کو ہرایا تھا ان انتخابات میں نبیلہ سید نے 22775 ( 53.28 فیصد ) اور BOS نے 20847 ( 47 فیصد ) ووٹ حاصل کئے تھے ۔ ہندوستانی نژاد غیر مسلم رائے دہندوں نے نبیلہ سید کی بھر پور تائید کی تھی ۔ نبیلہ سید نے اس مرتبہ ریپبلکن امیدوار 49 سالہ TOSI UFODIKE کو ہرایا ۔ نبیلہ نے 29,265 ( 55.0 فیصد ) ووٹ حاصل کئے جب کہ ان کی حریف امیدوار 23983 ( 45.0 فیصد ) ووٹ ہی حاصل کرپائی ۔ واضح رہے کہ نبیلہ کے والد سید معز الدین کا تعلق حیدرآباد کے ٹولی چوکی علاقہ سے ہے ۔ وہ اپنی 80 کے دہے میں امریکہ منتقل ہوئے تھے ۔ نبیلہ کی پیدائش الینوائے میں ہوئی اور وہیں پرورش پائی PALATINE میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہرکلے سے بیچلرس ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے الینوائے اسمبلی میں 14 بل منظور کروائے جو ایک ریکارڈ ہے ۔ نبیلہ اور ان کے والد سید معز الدین سماجی و ملی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران باپ بیٹی دونوں روزہ داروں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں ۔ نبیلہ سید کی سماجی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کچھ سال قبل اپنے جگر کا ٹکرا بطور عطیہ دے کر ایک 26 سالہ نوجوان کی جان بچائی تھی ۔ نبیلہ نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ جس علاقہ میں میں پیدا ہوئی بڑی ہوئی اس کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعث شکر اور فخر ہے ۔۔