نتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات کے باوجود حکومت سازی کی اجازت

   

تل ابیب ۔ 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کی سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت دے دی ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے نتن یاہو اور حزب اختلاف کی جماعت بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے بینی گینز کی اتحادی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔گزشتہ ایک سال میں اسرائیل میں تین بار انتخابات ہو چکے ہیں تاہم کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے بن یامین نتن یاہو پر پچھلے سال نومبر میں رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نتن یاہو ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے 11 ججز پر مشتمل پینل نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ایسی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں کہ کنیست (اسرائیل کی پارلیمان) کے رکن نتن یاہو کو حکومت سازی سے روکا جائے۔پینل کا فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ نتن یاہو کو اس وقت تک بے قصور ہی گردانا جائے گا جب تک ان پر الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔خیال رہے کہ نتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک میڈیا ٹائیکون کو سیاسی فوائد دینے کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں ان کے حق میں خبریں نشر کی جانی تھیں۔ نتن یاہو پر قیمتی تحائف لینے کے بھی الزامات ہیں۔وزیرِ اعظم نتن یاہو تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور وہ ان الزامات کو سیاسی الزامات کہتے ہیں۔نتن یاہو کے خلاف تین الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت 24 مئی سے شروع ہونی ہے۔اسرائیل کے قانون کے مطابق کوئی بھی وزیر جس پر فرد جرم عائد ہو جائے اسے لازمی اپنی وزارت سے استعفیٰ دینا ہوتا ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم کے حوالے سے اس پر ابہام موجود ہے کہ اس قانون کا اطلاق وزارت عظمیٰ کے منصب پر موجود شخص پر ہو سکتا ہے یا نہیں۔