نتن یاہو یرغمالیوں کیلئے مزید وقت دیئے جانے کے خواہاں

,

   

l فتح سے پہلے جنگ روکی نہیں جاسکتی l پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران گیلریوں سے ’ابھی ابھی‘ کے نعرے

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران یہ انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں ڈھائی ماہ سے جاری شدید جنگ میں ابھی مزید شدت پیدا کرنا ہو گی۔ تاکہ دباؤ بڑھا کر یرغمالیوں کو رہا کرایا جاسکے۔وہ پارلیمنٹ سے یہ خطاب لیکود پارٹی کے بقول غزہ کے دورہ کے بعد کر رہے تھے۔ جہاں ان کی غزہ میں تعینات فوجی کمانڈروں سے بھی یرغمالیوں کے ایشو پر تفصیلی بات چیت ہوئی ، کمانڈروں نے ابھی انہیں یہی بتایا کہ ابھی وقت لگے گا۔نتن یاہو کا خطاب سننے اور اپنی سنانے کیلئے اسرائیلی یرغمالیوں کے ورثاء بھی پارلیمنٹ کی گیلریوں میں موجود تھے۔ جب وزیر اعظم نے یہ کہا کہ انہیں یرغمالیوں کو واپسی کیلئے ابھی وقت لگے گا تاکہ غزہ میں فوجی اور جنگی دباؤ بڑھا کر یہ کام کر سکیں تو گیلریوں سے آوازیں آنے لگیں ، نہیں ابھی ابھی ابھی۔اس پر نتن یاہو قدرے گھبرا اور جھنجھلا گئے۔ نتن یاہو کو جوابًا کہنا پڑا ‘ ہم جنگی دباؤ بڑھائے بغیر یہ کام جلد ممکن نہیں بنا سکتے۔ میں نے اس سلسلے میں کمانڈروں سے بھی بات کی ہے۔ ان کا جواب بھی یہی تھا کہ انہیں یہ مشن مکمل کرنے کیلئے ابھی مزید وقت چاہیے ہو گا۔ ‘یرغمالیوں کے خاندانوں کے نعرے زیادہ تیز ہونے پر نتن یاہو کو یہ بھی کہنا پڑا ‘ ہم جنگ کو فتح سے پہلے نہیں روک سکتے، انہوں نے احتجاجی آوازوں کے احتجاج کے بعد کہا۔ ‘واضح رہے غزہ میں اسرائیل کے 129 یرغمالی حماس کے پاس قید ہیں۔ ان کے بارے میں یرغمالی خاندانوں میں اس وقت شدید غصہ دیکھنے میں آیا جب اسرائیلی فوجیوں نے خود ہی تین یرغمالیوں کو گولی مار کر غزہ میں ہلاک کر دیا تھا۔نتن یاہو نے اپنے پارلیمنٹ سے خطاب میں ورثا ء کے نعرے لگتے رہنے کے بعد یہ بھی کہا کہ میں اور میرے ساتھی یرغمالیوں کو واپس گھروں کو لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہم جنگ نہیں رو ک سکتے ، اسے جاری رکھیں گے۔’