نتیش جی کو کیا ہوگیا

   

Ferty9 Clinic

ہریش کیش ائیر
چیف منسٹر بہار نتیش کمار آج کل اپوزیشن قائدین بالخصوص خاتون سیاستدانوں کی شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے تو ان سے نہ صرف معذرت خواہی ملک عہدہ چیف منسٹری سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع ہوا ۔ اس ویڈیو میں نتیش کمار کو ایک باحجاب آیوش ڈاکٹر کا نقاب کھیجتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ نتیش کمار کی عجیب و غریب حرکت کا یہ واقعہ پٹنہ میں منعقدہ اس پروگرام میں پیش آیا جہاں آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامے حوالے کئے جا رہے تھے ۔ مقامی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ چیف منسٹر کی سکریٹریٹ میں اس وقت پیش آیا جہاں 1238 ایوش (ایورویدا ، یوگا و نیچروپیتی ، یونانی ، سدھا اور ہومیو پیتھی) ڈاکٹروں میں تقررناموں کی تقسیم عمل میں لائی جارہی تھی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر نصرت پروین جب تقرر نامہ حاصل کرنے شہ نشین پر آئیں ، نتیش کمار نے ان کے نقاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اور پھر چند سکنڈس میں ہی انہوں نے خاتون ڈاکٹر کے چہرہ کا نقاب کھینچ دیا۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے نصرت پروین کو کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا ۔ یہ شرمناک واقعہ چند سکنڈس میں پیش آیا ۔ 11 سکنڈس کے ویڈیو کلپ میں دکھا یا گیا کہ ڈپٹی چیف منسٹر سمراٹ چوہدری جو نتیش کمار کے بازو ہی کھڑے تھے، انہیں روکنے آگے بڑھے، اس واقعہ پر اپوزیشن خاص طورپر اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (RJD) نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ چیف منسٹر کی صحت (ذہنی صحت) پر سوالات اٹھائے اور سوال کیا کہ آخر نتیش جی کو کیا ہوگیا ؟ ان کی ذہنی حالت قابل رحم سطح پر پہنچ گئی ہے یا نتیش بابو اب 100 فیصد سنکھی بن گئے ہیں؟ آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ نتیش کمار کی حرکت دستوری حقوق کی ایک خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر پر زور دیا کہ وہ اپنی اس شرمناک حرکت پر معذڑت خواہی کریں۔ دوسری طرف کانگریس نے نتیش کمار کی حرکت کو شرمناک گری ہوئی اور ناگوار قرار دیا اور کہا کہ نتیش کمار کو ا پنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ کانگریس بہار یونٹ نے ایکس پر اپنے پو سٹ میں کہا کہ چیف منسٹر کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے ایک خاتون کا نقاب کھینچنے اور وہ بھی اسے تقرر نامہ حوالے کرتے ہوئے حرکت کرنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ جب ریاست کا سربراہ (چیف منسٹر) کھلے عام اس قسم کی قبیح حرکت کرتا ہے تو پھر ریاست میں خواتین کی سفیٹی کا کیا حال ہوگا ؟
دوسری جانب شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی لیڈر پر تیکا چترویدی نے اسے برسر عام ہراسانی اور انتہائی قابل مذمت قرار دیا لیکن جے ڈی (یو) کے ترجمان اعلیٰ نیرج کمار نے چیف منسٹر کی یہ کہتے ہوئے مداخلت کی اور کہا کہ اس سے چیف منسٹر اور پارٹی کو نہیں جوڑنا چاہئے بلکہ نتیش کمار خواتین کو بااختیار بنانے اور اقلیتی بہبود کے لئے جو کہنا ہے اسے دیکھنا چاہئے ۔ ایک ویژول امیج کو اپوزیشن کی جانب سے غیر ضروری طور پر نہیں پھیلایا جانا چاہئے ۔ مسٹر نیرج کمار اسی انڈین اکسپریس سے بات کر رہے تھے ۔ دوسری جانب بہار کے وزیر اقلیتی بہبود مسٹر زماں خاں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ چیف منسٹر نتیش کمار ہر کسی کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ ہر کسی کو اس بات کا تیقن دیا کہ وہ چیف منسٹر سے کہیں زیادہ سرپرست ہیں اور ویڈیو میں جس باحجاب لڑکی کو دکھایا گیا وہ ان کیلئے ایک بچی کی طرح ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے محبت سے ایسا کئے ہوں گے ۔ مسٹر زماں خاں کا یہ بھی کہنا تھا کہ نتیش کمار اقلیتوں کا بہت احترام کرتے ہیں ، ایسے میں یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ اپوزیشن غیر ضروری طور پر چیف منسٹر کے خلاف الزامات عائد کر رہی ہے ۔ ان پر انگلیاں اٹھارہی ہے ۔ ایک طرف اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد نتیش کمار تنقیدوں کی زد میں ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈروں نے سابق چیف منسٹر راجستھان اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوٹ کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے جو بظاہر پرانا لگتا ہے جس میں اشوک گیہلوٹ ایک خاتون کا گھونگٹ نکال رہے ہیں، بی جے پی کی رادھیکا کھیرا نے گیہلوٹ کا یہ ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے یہ سوال کیا کہ کانگریس نے اس وقت ہندو کمیونٹی کی مدافعت کیوں نہیں کی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ تازہ تنازعہ نے عہدہ چیف منسٹری کیلئے نتیش کمار کے فٹ ہونے کے بارے میں کئی ایک سوالات پیدا کردیتے ہیں ۔ انتخابی حکمت ساز پریشانت کشور نے چیف منسٹر نتیش کمار کی ذہنی حالت کے بارے میں دریافت کیا اور جسمانی حالت پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے تھے ۔ اس وقت پرشانت کشور نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ انہیں نتیش بابو کی فکر نہیں بلکہ صحت کی فکر ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ نتیش کمار نے ایک ماہ قبل ہی دسویں مرتبہ ریاست کے چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کیا تھا ۔ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو اور بی جے پی اتحاد نے 243 نشستوں میں سے 200 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔