چیف منسٹربہار نے جے ڈی یو ایم ایل ایز اور ایم پیز کی میٹنگ طلب کی،ریاستی سیاست میں نئی صف بندی ممکن
پٹنہ: بہار کے حکمراں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے حلیفوں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں تنازعہ کی قیاس آرائیوں کے درمیان ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے پیر کو کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ نتیش کمار بی جے پی سے تعلقات توڑتے ہیں تو وہ انہیں اور ان کی پارٹی کو گلے لگانے کے لیے تیار ہیں۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آر جے ڈی کے قومی نائب صدر شیوانند تیواری نے کہا کہ منگل کو دونوں جماعتوں کے ارکان مقننہ کی میٹنگ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صورتحال غیر معمولی ہے۔میں ذاتی طور پر موجودہ پیشرفت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہوں۔ لیکن ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ دونوں پارٹیوں (جن کے پاس اکثریت حاصل کرنے کے لیے کافی تعداد ہے) نے اس طرح کی میٹنگیں اس وقت بلائی ہیں جب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر نتیش این ڈی اے کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو پھر ہمارے پاس ان کو گلے لگانے کے علاوہ اور کیا راستہ ہے؟ آر جے ڈی بی جے پی سے سیاسی جنگ کے لیے پرعزم ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ اس لڑائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ،تو ہم انہیں اپنے ساتھ کرنے کے متمنی ہیں۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے منگل کو اپنی پارٹی جنتا دل (یونائیٹڈ) کے تمام ایم ایل اے اور ایم پی کی میٹنگ بلائی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو ان کے غصے کی نشاندہی کرتا ہے اور اتحادی پارٹی بی جے پی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تصادم کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔نتیش کمار چاہتے ہیں کہ بہار اسمبلی کے اسپیکر وجے کمار سنہا کو ہٹایا جائے۔ نتیش اسپیکر سنہا پر ایک سے زیادہ مرتبہ غصہ ہوچکے ہیں، جن پر نتیش کمار نے اپنی حکومت کے خلاف سوالات اٹھا کر آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے۔نتیش کمار اس وقت سے ناراض ہیں جب ان کی پارٹی جے ڈی (یو) کو جون 2019 میں نریندر مودی حکومت میں صرف ایک ہی جگہ کی پیشکش کی گئی تھی۔ انہوں نے بہار کی توسیع شدہ کابینہ میں اپنی پارٹی کے آٹھ ساتھیوں کو شامل کرکے جوابی حملہ کیا تھا اور بی جے پی کے لیے ایک جگہ خالی چھوڑ دی تھی۔جے ڈی (یو) سربراہ ریاستی اور قومی انتخابات ایک ساتھ منعقد کرنے کیخلاف ہیں۔ ریاستوں اور پارلیمنٹ کے بیک وقت انتخابات کا خیال پی ایم مودی نے پیش کیا تھا، جس پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا ہے۔ یہ ان مسائل میں سے ایک تھا جہاں جے ڈی (یو) کو اپوزیشن کے ساتھ مشترکہ بنیاد ملی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ نتیش کمار اپنی کابینہ میں بی جے پی کے وزراء کے انتخاب میں بڑا حصہ چاہتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تاہم اس اقدام سے وزیر داخلہ امیت شاہ کی بہار پر سمجھی جانے والی گرفت کو ان کے قریبی مانے جانے والے وزرا کے انتخاب کے ذریعے نقصان پہنچے گا۔ مثال کے طور پر، بی جے پی کے سشیل مودی، جو نتیش کمار کے اقتدار میں زیادہ تر برسوں تک ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ رہے، انہیں پارٹی قیادت نے بہار سے باہر کر دیا۔