چند برسوں میں 40 سے زائد بڑے گھپلوں اور اسکامس ہونے کا دعوی
پٹنہ ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آر جے ڈی کے قائد تیجسوی یادو لوک سبھا میں ان کی پارٹی کے ایک سیٹ میں نہ جیتنے کی وجہ سے کسی قدر سست پڑ چکے تھے۔ اب انہوں نے رائے دہندوں پر زور دیا ہیکہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو کھڑا کرنے اور جعلی قوم پرستی سے چوکنا رہیں اور ایک کسی پروپگنڈہ سے متاثر ہوئے بغیر اپنی حکومت کا انتخاب کریں۔ حزب مخالف کے قائدین جو بہار اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں غیرحاضر تھے ان پر سرکاری بنچوں سے بارہا نکتہ چینی کی گئی۔ انہوں نے بھی جمعرات کے دن فیس بک کے ایک طویل پوسٹ میں اس کی تائید کی۔ یادو نے بیان کیا کہ عوام کو ایک ایسی حکومت کا انتخاب کرنا چاہئے جس کے ذہن میں عوام کو درپیش روزمرہ مسائل کا حل موجود ہو لیکن اس حکومت کے پروپگنڈہ سے متاثرنہیں ہونا چاہئے۔ بہار اسمبلی کے انتخابات آئندہ سال مقرر ہیں۔ اگر عوام نے ہندو بمقابلہ مسلمان جیسے مسائل اور جعلی قوم پرستی کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور 6 ہزار روپئے سالانہ کی لالچ میں آگئے تو پھر کسی بھی حکومت کو ان کے مسائل حل کرنے کی کیا ضرورت محسوس ہوگی۔ وہ بظاہر بی جے پی کی مرکزی حکومت کی کسان سمان نیدھی یوجنا کا حوالہ دے رہے تھے جس کے تحت ہر کسان کو سالانہ 6 ہزار روپئے کی امداد دی جائے گی جس کی اجتماعی ملکیت کی حامل زرعی زمین دو ہیکٹر ہوگی۔ آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو کے جانشین نے یہ شکایت بھی کی کہ نتیش کمار کی حکومت 25 یا 30 سال قبل جو ریاست کی صورتحال تھی اس کا راگ اب تک الاپ رہی ہے۔ اس وقت ان کے والد اور ان کی والدہ رابڑی دیوی بہار کی وزیراعلیٰ تھیں۔ یادو نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ذہنی بیماری کی وباء کے پھوٹ پڑنے سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ اس بیماری نے ایک ماہ میں 50 بچوں کی جان لے لی۔ اس کے علاوہ بہار میں سیلاب نے 130 جانیں لے لیں اور بہار کے تقریباً 13 اضلاع پانی میں ڈوب گئے۔ اس کے علاوہ گذشتہ چند برسوں میں 40 سے زائد گھپلے روشنی میں آئے ہیں۔
