کوالالمپور،23اکتوبر (یواین آئی) ملائشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق جو سرکاری فنڈز میں خردبرد کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں، مقدمہ کے دوران ملک کے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نجیب رزاق نے ایسی بدعنوانیاں کی ہیں جیسے وہ شہنشاہ ہو۔ واضح رہے کہ ملائشیا کے پراسیکیوٹرز سابق وزیر اعظم کے خلاف اپنے پہلے کیس کو حتمی شکل دے رہے ہیں جنہیں منی لانڈرنگ، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک کروڑ ڈالر اپنے ذاتی اکاؤنٹ منتقل کرنے سمیت 7 الزامات کا سامنا ہے ۔2009 میں ‘ون ایم ڈی بی’ کی بنیاد رکھنے والے نجیب رزاق پر ون ایم ڈی بی اور دیگر ریاستی ملکیت کو نقصان پہنچانے کے دیگر 35 الزامات بھی عائد ہیں۔تاہم انہوں نے تمام مقدمات میں خود کو بے قصور بتایا ہے ۔ اٹارنی جنرل ٹامی تھامس نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نجیب رزاق نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور ایس آر سی انٹرنیشنل کے مشیر کے عہدہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے فنڈز حاصل کئے ۔ کوالا لمپور کی ہائی کورٹ میں انہوں نے کہا کہ‘ ‘وہ اجلاس کو ویٹو کرسکتے تھے ، وہ تمام فیصلے کرتے تھے ، وہ کمپنی کے شہنشاہ تھے ’’۔ انہوں نے کہا کہ نجیب رزاق نے ایس آر سی سے 4 ارب رنگٹ (ملیشیائی کرنسی) کے 2 قرضے حاصل کرنے کے لئے سرکاری ضمانت لینے کے لئے اختیارات کا استعمال کیا۔وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ ‘‘نجیب رزاق کو رقم کے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے حوالہ سے کوئی اطلاع نہیں اور انہیں ملائشیا کے فنانسر زو لو سمیت ایس آر سی کے سابق چیف ایگزیکٹیو نک فیصل عارف کامل نے گمراہ کیا اور دونوں فرار ہیں۔زو لو، جنہیں امریکہ اور ملائشیا میں ون ایم ڈی بی کیس میں مقدمات کا سامنا ہے نے کچھ بھی غلط کرنے کو مسترد کیا ہے جبکہ نک فیصل عارف کامل نے کبھی عوامی سطح پر کیس کے حوالہ سے بیان نہیں دیا اور نہ ہی ان کی رائے کے لئے ان سے رابطہ ہوسکا۔