نجی مقام پر نمازپڑھنے سے روکنے پرعدالت کی برہمی

   

بریلی کے ڈی ایم اور ایس پی کوتوہین عدالت کانوٹس
لکھنؤ۔19؍فروری ( ایجنسیز)اتر پردیش میں مذہبی آزادی اور نجی املاک پر عبادت کے حق سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے بریلی کے ضلعی حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس مسلمانوں کو نجی یعنی اپنے مکان کے اندر نماز ادا کرنے سے روکنے کے معاملے میں جاری کیا گیا۔عدالت نے بریلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اویناش سنگھ اور سنئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریا سے 11 مارچ تک جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار طارق خان کیخلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی پر عبوری روک بھی لگا دی ہے۔یہ تنازعہ 16 جنوری کو پیش آنے والے واقعے سے جڑا ہے۔ بریلی کے محمدگنج گاؤں میں چند مسلمان ایک خالی مکان کے اندر نماز ادا کر رہے تھے جسے مقامی خاتون ریشمہ خان کی ملکیت بتایا گیا۔ پولیس نے بغیر اجازت اجتماع کے الزام میں کچھ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ چار افراد کو امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ریشمہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے مکان میں اجتماع اور نماز کی اجازت دی تھی اور عبادت مکمل طور پر نجی حدود کے اندر ہوئی تھی۔درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ 27 جنوری کو اسی عدالت کے ایک فیصلے میں واضح کیا جا چکا ہے کہ اتر پردیش میں نجی املاک کے اندر مذہبی عبادت کیلئے کسی سرکاری اجازت کی ضرورت نہیں بشرطیکہ اجتماع عوامی سڑک یا سرکاری جگہ تک نہ پھیلے۔27 جنوری کے فیصلے میں عدالت نے ایک الگ مقدمے میں جو عیسائی تنظیموں کی جانب سے نجی مقامات پر دعائیہ اجتماعات سے متعلق تھا یہ قرار دیا تھا کہ نجی جائیداد کے اندر مذہبی سرگرمی کیلئے پیشگی اجازت ضروری نہیں۔