نرسمہاراؤکی مخالفت سے متعلق مجلس کا دعویٰ کھوکھلا ثابت

   

اسمبلی کا بائیکاٹ محض دکھاوا، حکومت سے ملی بھگت، محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد۔ سابق وزیر اور سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اسمبلی میں سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کو بھارت رتن اعزاز کے حق میں قرارداد کے مجلس کی جانب سے بائیکاٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجلس کو پی وی نرسمہا راؤ کے مسئلہ پر اپنے دوہرے موقف کو تبدیل کرنا چاہیئے۔ ایوان سے غیر حاضر رہ کر اسے بائیکاٹ کے طور پر عوام میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مجلس کے ارکان ایوان کی کارروائی میں حصہ لیتے اور قرارداد پر اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے واک آؤٹ کرتے۔ یہی قانون ساز اداروں کا مروجہ طریقہ کار ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بائیکاٹ کا ڈرامہ کیا جبکہ ایوان کی کارروائی سے غیر حاضر رہ کر قرارداد کے متفقہ منظوری کی راہ ہموار کی گئی۔ مجلس نے اپنی غیر حاضری کے ذریعہ حکومت کو قرارداد کی منظوری میں مدد کی ہے جبکہ اسمبلی کے باہر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پارٹی نے قرارداد کی مخالفت کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلسی ارکان ایوان میں داخل نہیں ہوئے اور احمد پاشاہ قادری کے ذریعہ یہ اعلان کرایا گیا کہ پارٹی نرسمہا راؤ پر قرارداد کا بائیکاٹ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کو اس طرح کے اوچھے حربے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ ایوان سے غیر حاضر رہتے ہوئے اسمبلی کے ریکارڈ میں کوئی احتجاج درج نہیں ہوا اور چیف منسٹر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کسی مخالفت کے بغیر منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجلسی ارکان اسمبلی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بزدلوں کی ٹولی ہے۔ مجلس نے بابری مسجد کی شہادت کے مسئلہ پر نرسمہا راؤ کو ذمہ دار قراردیتے ہوئے کانگریس پر حملے کئے تھے اگر مجلس حقیقی معنوں میں نرسمہا راؤ کے خلاف ہوتی تو وہ پی وی نرسمہا راؤ کی صدی تقاریب کی مخالفت کرتی جس کا اہتمام ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ صدر مجلس اسد اویسی اور اسمبلی میں فلور لیڈر اکبر اویسی کو کانگریس پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے دوہرے موقف سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مجلسی قائدین نے کانگریس کے ساتھ رہ کر بھاری اثاثہ جات بنالئے ہیں۔ بعد میں وہ تلگودیشم کے ساتھ ہوگئے اور 2004 سے دوبارہ کانگریس کے ساتھ شریک ہوگئے کیونکہ کانگریس برسراقتدار آچکی تھی۔ 2014 میں ٹی آر ایس کے برسراقتدار آنے کے بعد مجلس ٹی آر ایس کے ساتھ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں مرکز میں بالواسطہ طور پر بی جے پی کی تائید کررہی ہیں۔