نرسمہا راؤ کے خاندان سے کے سی آر کی جھوٹی ہمدردی

   


ایم ایل سی ٹکٹ کے بجائے راجیہ سبھا کیوں نہیں دیا گیا؟ مرکزی وزیر کشن ریڈی کا سوال
حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے سوال کیا کہ اگر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کا احترام عزیز تھا تو پھر ان کی دختر وانی دیوی کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیوں نہیں کیا گیا۔ گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے لئے ٹی آر ایس نے وانی دیوی کو امیدوار بناکر نرسمہا راؤ خاندان سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس سربراہ کو نرسمہا کے احترام سے کوئی مطلب نہیں ہے اور وہ اس خاندان کو اپنے سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ کشن ریڈی وقار آباد اور بوڈ اپل میں بی جے پی کے ایم ایل سی امیدوار کے حق میں انتخابی مہم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے راشن شاپ پر سربراہ کئے جانے والے چاول پر فی کیلو دو روپئے خرچ کئے ہیں جبکہ مودی حکومت نے اس اسکیم کیلئے 28 روپئے ادا کئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 6000 کسانوں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرائی ہے اور خواتین کے ویلفیر گروپس کو 20 لاکھ روپئے فراہم کئے گئے ۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع سوائے پدا پلی کے مرکزی حکومت نے قومی شاہراہوں سے مربوط کیا ہے ۔ مرکز نے ریجنل رنگ روڈ کی منظوری دی ہے تاکہ ریاست کی مجموعی ترقی ہو۔ کشن ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کو وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر تنقید کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ہر ضلع میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام میں ناکام ہوچکے ہیں جس کا انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے دو تاریخی دواخانوں کی ابتر صورتحال کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بھی دن تعطیل نہیں لی جبکہ چیف منسٹر کے سی آر نے گزشتہ 7 برسوں میں صرف 28 دن سکریٹریٹ میں کام کیا۔ انہوں نے دانشوروں اور تعلیم یافتہ افراد سے اپیل کی کہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔ بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا نے قطب اللہ پور اور دیگر علاقوں میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔