حیدرآباد ۔ 28 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے کھمم، نرمل اور مدی گنڈہ علاقوں میں بندروں کا خوف خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے۔ بندروں کے حملے میں خواتین، بچے اور ضعیف حضرات خطرہ کا شکار ہورہے ہیں۔ بندر انسانوں کے ہاتھوں سے کھانا چھیننے کیلئے ان پر حملہ کررہے ہیں۔ ان علاقوں میں بندروں نے دہشت سے انسانوں کے ساتھ ساتھ کھیتوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ بندر کھانے کی تلاش میں گھروں اور دکانات پر حملہ کرتے ہوئے نقصان پہنچا رہے ہیں جس سے تجارتی اداروں کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ نرمل کے قریب چنچولی میں بندروں کی جراثیم کشی کیلئے ایک یونٹ قائم کیا گیا ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ بندروں کو پکڑ کر ان کی نس بندی کریں لیکن اس میں وہ ناکام ہوگئے ہیں۔ میڈی پلی میں بندروں کی دہشت سے نمٹنے کیلئے مقامی عوام نے ایک گروپ بناکر لاٹھیوں کے ذریعہ انہیں بھگانے کا کام کررہے ہیں۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ ان بندروں کو پکڑ کر کسی محفوظ مقام منتقل کریں۔ میڈی پلی، مدی گنڈہ، انیکور، تلاڈہ، بوناکل اور رگھوناتھ پلی کے علاقوں میں بندروں نے کھیتوں پر حملہ کرتے ہوئے ایک لاکھ ایکر اراضی کی فصل برباد کردی۔ ایک کسان نے بتایا کہ تقریباً پانچ سو بندروں نے مکئی کے فصل پر حملہ کرکے اسے مکمل تباہ کردیا۔ کسان پہلے ہی غیرموسمی بارش اور ژالہ باری سے پریشان ہیں۔ ش