نئی دہلی ، 4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو مسلم فریقوں سے دریافت کیا کہ آیا وہ اتفاق کریں گے کہ ایودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد اراضی کا بیرونی صحن نرموہی اکھاڑہ کا مقبوضہ رہا، کیونکہ وہ اکھاڑہ کو رام للا کا بھکت قبول کرچکے ہیں۔ پانچ رکنی دستوری بنچ کو کیس کی سماعت کے 19 ویں روز سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے مسلم فریقوں کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ صرف انتظام و انصرام چلانے اور پوجا کرنے کی اجازت کا خواہاں ہے اور ملکیت کا دعویٰ نہیں کررہا ہے۔بنچ نے پوچھا، ’’آپ کو اُن کے بھکتی حقوق پر اعتراض نہیں ہے۔‘‘ دھون نے جواب دیا: ’’نہیں، مجھے (اعتراض) نہیں ہے۔‘‘