نئی دہلی ۔ 5 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعرات کو مسلم فریقوں کے الزامات کا نوٹ لیا کہ نرموہی اکھاڑہ کے کئی گواہوں نے اپنے حلفیہ بیانات میں بلند بانگ دعوے کئے ، اور عدالت نے ان سے سوال کیا کہ آیا انہیں ہنوز ایودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی ۔بابری مسجد اراضی پر اکھاڑہ کے حقوق قبول ہیں؟ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی دستوری بنچ نے مسلم فریقوں کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون کے بیان پر غور کیا کہ اکھاڑہ کے حق میں پیش ہونے والے گواہوں کے بیانات نے خامیاں اور تضادات پائے گئے ہیں۔ کسی نے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ 700 سال قبل قائم ہوا ، بعض نے 250 سال قبل کی بات کہی۔ ایک گواہ نے کہا کہ لارڈ رام کا 12 لاکھ سال قبل وجود تھا لیکن میں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرسکتا کہ ایسے ریکارڈس موجود ہیں کہ نرموہی اکھاڑہ 1855-56 ء میں موجود تھا اور مہنت رگھوبر داس نے 1885 ء میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس بنچ کے دیگر ارکان ایس اے بوبڈے، چندرچوڑ ، اشوک بھوشن اور عبدالنذیرہیں۔