کلواکرتی ترکاری مارکٹ میں اکثر و بیشتر کوویڈ قواعد نظرانداز، وقت کی پابندی نہ کرنے والوں پر سخت شکنجہ
کلواکرتی : ضلع ناگر کرنول میں کورونا کیسوں میں کمی نہ ہونے کا جہاں تذکرہ خوب زور و شور سے جاری ہے وہیں ترکاری و دیگر اشیاء کی خریداری کے لئے ہزاروں افراد پر مشتمل ہجوم کا ایک جگہ بغیر عوامی دوری کے جمع ہونا اُس کا سبب تو نہیں؟ گزشتہ کچھ دنوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے وقفہ صبح 6 تا 10 بجے دن کے دوران ترکاری اور دیگر اشیائے ضروریہ کی خریدی کے لئے کثیر تعداد میں مارکٹ شاپس اور مالس میں ایک ساتھ جمع ہورہے ہیں۔ ماسک کا استعمال بے ترتیب ہے تو وہیں پر عوامی دور کا برابر خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ جبکہ ترکاری مارکٹ میں جوکہ عارضی طور پر گورنمنٹ جونیر کالج گراؤنڈ پر منتقل کی گئی ہے صرف بلدیہ کا عملہ عوام کو کنٹرول کررہا ہے جبکہ اکثر عوام اُن کے مشورے کو بالکلیہ نظرانداز کرتے ہوئے کثیر تعداد میں جمع ہورہے ہیں۔ وہیں پر گراؤنڈ کے باہر گاڑیوں کی بے ترتیبی ٹریفک کے جام ہونے کا سبب بن رہی ہے جہاں وقت سے پہلے عوام کو گھروں پر پہنچ جانے کا حکم دیا جارہا ہے وہیں ٹریفک کی بے ہنگم ہونے کے سبب عوام کو منزل مقصود تک پہونچنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آج تو صبح 9.30 بجے ہی کاروبار بند کردیا گیا۔ ہوٹلوں میں نشست برخاست کردی گئی، 9.30 بجتے ہی پولیس کی گاڑیاں ہارن بجاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں اور عوام کو راستوں سے ہٹانے اور کاروبار بند کروانے میں لگ گئے۔ عوام کی جانب سے بھی پولیس کو برابر تعاون حاصل رہا۔ مارکٹ کے ختم ہوتے ہی بلدیہ کی جانب سے دوائی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ اتنی سختی کے باوجود عوام کا باہر نکلنا کافی غور و فکر کو دعوت دیتا ہے جبکہ عوام کی جانب سے شادیوں کے اس سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے اوقات کا اضافہ بہتر تجویز ہوتا جارہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے محدود تعداد میں شادیوں کی اجازت دی جارہی ہے۔ منجملہ 9.30 بجے کے بعد پولیس کی جانب سے سختی سے بند کروایا جارہا ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنے والوں پر سخت شکنجہ کسا جارہا ہے۔