نریندر دابھولکر قتل معاملہ : دو ملزمین کو عمر قید کی سزا ، 3 بری

   

ممبئی: مہاراشٹرا توہم پرستی مٹاؤ کمیٹی کے بانی ڈاکٹر نریندر دابھولکر کے قتل کیس میں آج جمعہ کو خصوصی عدالت کے جج پی پی جادھو نے سچن اندورے اور شرد کالسکر کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں تین دیگر ملزمان ڈاکٹر وریندر سنگھ تاوڑے ، وکرم بھاوے اور سنجیو پونالیکر کو ٹھوس ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے بری کر دیا گیا ہے ۔ نریندر دابھولکر کے بیٹے حمید دابھولکر نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ دابھولکر نے کہا کہ تینوں ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے اور وہ انہیں سزا دلانے کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی جج پی پی جادھو نے کہا کہ پولیس اور حکومت اس معاملے میں تینوں ملزمین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر پائی ہے ۔ اس لیے تینوں ملزمان کو اس جرم سے بری کیا جا رہا ہے ۔ سچن اندورے اور شرد کالسکر نے فائرنگ کا اعتراف کیا ہے ۔ پولیس نے عدالت میں اس کے خلاف پختہ ثبوت پیش کئے ۔ دونوں کو ایک ہی بنیاد پر سزا دی جا رہی ہے ۔ جج پاٹل نے یہ بھی کہا کہ تفتیشی افسران کی طرف سے مناسب تفتیش نہیں کی گئی اور تحقیقات میں لاپرواہی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ تحقیقاتی ٹیم UAPA کی دفعہ کو ثابت نہیں کر سکی۔