نریندر مودی تلنگانہ تاریخ اور جدوجہد سے واقف نہیں: محمد علی شبیر

   

ناانصافیوں کی پردہ پوشی کیلئے متنازعہ بیان، سابق وزرائے اعظم پر تنقید کی مذمت
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ تلگو ریاستوں کے ساتھ مرکز کی جانب سے ناانصافی کو چھپانے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کی تشکیل پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے موڑنے کی کوشش کی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر اعظم کیلئے یہ امر مضحکہ خیز ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظورہ بل پر سوال اٹھائے ہیں۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے ان حالات کا ذکر کیا جبکہ وہ ایوان کے رکن نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو بیان دینے سے قبل پارلیمنٹ کا ریکارڈ دیکھنا چاہیئے تھا تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے متعلق بل پر وسیع تر مباحث ہوئے اور پارلیمانی قواعد کے مطابق منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے جمہوری اور دستوری اصولوں پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے حالیہ عرصہ میں کئی اہم بلز کو مباحث کے بغیر منظوری دے دی ہے جن میں لینڈ ایکویزیشن قانون، طلاق ثلاثہ اور شہریت ترمیمی بلز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی دفعہ 370 اور متنازعہ زرعی قوانین کے بارے میں یکطرفہ فیصلے کئے گئے۔ نریندر مودی دراصل تلنگانہ تحریک کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو تلنگانہ کے بارے میں بات کرنے کا اخلاقی حق اس لئے بھی نہیں ہے کہ بی جے پی حکومت نے تنظیم جدید قانون کے وعدوں کی تکمیل نہیں کی ہے۔ تلنگانہ کیلئے فنڈز اور پراجکٹس کے معاملہ میں مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم کے بارے میں نریندر مودی کے منفی ریمارکس افسوسناک ہیں اور کانگریس پارٹی وزیر اعظم کے بیان سے دستبرداری تک احتجاج جاری رکھے گی۔ر