ریٹرننگ آفیسرکے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا کال ریکارڈ محفوظ ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد۔ ٹی آر ایس کے کھاتہ میں ایک اور نشست کے اضافہ کے ساتھ جی ایچ ایم سی الیکشن میں ٹی آر ایس کا 56 ڈیویژنس پر قبضہ ہوگیا ہے۔ آج نریڈ میٹ ڈیویژن میں ووٹوں کی گنتی ہوئی جس میں ٹی آر ایس کی امیدوار مینا لوپیندر ریڈی نے اپنی حریف بی جے پی امیدوار پرسنا نائیڈو کو 720 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے دی ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر آج نریڈ میٹ ڈیویژن کے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔دوسرے نشانات پر مشتمل 544 ووٹوں کی گنتی کا آج صبح 8 بجے سینک پوری کے بھونس ویویکا نندا کالج میں آغاز ہوا جس کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے اعلان کیا کہ ٹی آر ایس کی امیدوار 782 ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہیں۔544 ووٹوں میں ٹی آر ایس کو 278 ، بی جے پی کو 115 اور کانگریس پارٹی کو 111 ووٹ حاصل ہوئے۔ نریڈ میٹ ڈیویژن میں جملہ 25,176 ووٹ ڈالے گئے۔ جن میں 24,632 ووٹ گنے گئے تھے مابقی ووٹوں کی آج گنتی کی گئی۔ 4 ڈسمبر کو رائے شماری میں ٹی آر ایس کی امیدوار 504 ووٹوں کی اکثریت بنائی ہوئی تھیں۔ سواستک نشان کے بجائے دوسرے نشانات کے ساتھ ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کرنے کی الیکشن کمیشن نے ہدایت دیتے ہوئے سرکولر جاری کیا تھا جس کو تلنگانہ بی جے پی لیگل سیل کے انچارج نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن کے موقف سے اتفاق کیا تھا جس سے آج درمیان میں روکی گئی ووٹوں کی گنتی کے عمل کو پورا کیا گیا۔ نریڈ میٹ ڈیویژن کی ریٹرننگ آفیسر لینا نے نتائج کے بعد سنسنی خیز ریمار ک کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر جانبدار تھیں کسی بھی پارٹی کی انہوں نے کوئی تائید نہیں کی تھی لیکن چند امیدواروں نے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ میری خدمات میں مداخلت ، میرے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا گیا جس کے خلاف وہ نریڈ میٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراچکی ہیں، میرے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنے والوں کی کال ریکارڈنگ میرے پاس محفوظ ہے جس کو وہ ایک رپورٹ کی شکل میں الیکشن کمیشن کو پیش کریں گی، انہوں نے کہا کہ وہ شفافیت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دی ہیں۔ وہ اپنے سیل فون کے کال ریکارڈس بتانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔