ویلنگٹن۔24 فروری (سیاست ڈاٹ کام) تقریبا ایک مہینہ پہلے روی شاستری ممبئی میں ایک پروگرام میں موجود تھے اور وہ یہاں کھیل کے چنچل مزاج کی بات کر رہے تھے۔انہوں نے اس موقع پر ورلڈ کپ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے شکست کو بھی یاد کیا۔شاستری نے اس ہار کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ تب ڈریسنگ روم میں دوگھنٹے تک اتنا سناٹا تھا، جوکان پھاڑ رہا تھا،اس کے بعد ہم اسٹیڈیم چھوڑ رہے تھے تب قریب 5000 لوگ وہاں باہرکھڑے تھے اور وہ کہہ رہے تھے شاباش ہوتا ہے (ویلڈن گائز، ڈونٹ مائنڈ)۔ یہی کھیل کی خوبصورتی ہوتی ہے، یہ آپ کو اوپر لے کر جاتا ہے تو نیچے بھی لے کر آتا ہے،آپ کو ہمیشہ میٹھامیٹھاپسند نہیں کرتے۔اب ٹیم دوبارہ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل رہی ہے،یہاں صرف میٹھا میٹھا نہیں ہے۔ہندوستان نے ٹی 20 سیریز میں میزبان ٹیم کو شکست دی تو ونڈے سیریز میں انہوں نے ہمارا خاتمہ کرکے حساب برابر کر دیا،اب ٹسٹ سیریز جاری ہے اور اس کا نتیجہ اس دورے کی کامیابی اور ناکامی کو ثابت کرے گا۔اس دوران کوچ روی شاستری نے قیادت کی خصوصیات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ٹیم سابق کپتان نے کہاکہ قیادت آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آپ دوسروں کو راہ دکھائیں۔آپ اگلے 12 ماہ میں خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں،اس سے شاید آپ کی موڈ میں تبدیلی آتی ہے،اس سے کوئی لڑکا یہ نہیں کہتا کہ میں یہ نہیں کرنا چاہتا، یہ ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ ہوتا ہے،آپ کو خوشی خوشی اسے کرتے ہیں۔بات جب فٹنس پر آتی ہے، تب بہت سے لوگ اپنے چہرے کھینچ لیتے ہیں لیکن جب وہ نتائج دیکھتے ہیں اور دیکھ بھال کے تئیں کوہلی کی لگن دکھتے ہیں، تب باقی بھی اسے خوشی سے اپناتے ہیں۔ اگر ٹیم کے دوسینئر کھلاڑیوں میں اہم کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو شاستری کو اس کی بھی پرواہ نہیں ہوتی، یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے،اگرچہ انہوں نے یہاں کسی کا نام نہیں لیا، لیکن سب کو معلوم ہے کہ وہ یہاں پرکن کی بات کر رہے تھے۔ جب شاستری سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ڈریسنگ روم میں کوہلی غصے ہو جاتے ہیں؟ اس کے جواب میں شاستری نے کہاکہ بالکل یہ کسی کے بھی مزاج میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ کچھ سال میں انہوں نے اپنے رویے کو شاندار کیا ہے، جس طریقے سے انہوں نے کپتانی، میڈیا، کامیابی اور ناکامی کو سنبھالا ہے،میں ان میں آئی شاندار پختگی کو دیکھتا ہوں۔