حیدرآباد: نظامیہ طبی کالج میں موجود بی یو ایم ایس و ایم ڈی یونانی کی نشستوں میں کئے گئے اضافہ پر کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی کی جانب سے داخلوں پر عمل کرنے کے بجائے مرکزی حکومت کے رہنمایانہ خطوط کے انتظار کا حوالہ دیتے ہوئے اضافی نشستوں پر داخلوں کے معاملہ میں ٹال مٹول کیا جا رہاہے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق نظامیہ طبی کالج (یونانی) میں موجود 75 بی یوایم ایس کی نشستوں میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں 94 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایم ڈی یونانی کی موجودہ نشستوں کو 36 سے بڑھا کر 45 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اضافہ کی گئی نشستوں پر EWS زمرہ یعنی معاشی طور پر پسماندہ زمرہ کے امیدواروں کو داخلہ دیا جائے گا۔ ڈاکٹر ابولحسن اشرف رکن نظامیہ طبی کالج اینڈ جنرل ہاسپٹل ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے بتایا کہ اضافی شدہ نشستیں تمام EWS زمرہ کیلئے محفوظ ہیں اور ان نشستوں پر معاشی طور پر پسماندہ امیدوار جو کہ بی یو ایم ایس اور ایم ڈی میں داخلہ کے اہل ہیں انہیں داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی کے ذمہ داروں کی جانب سے مرکزی حکومت کے ان احکامات کے مطابق اس بات کو تسلیم کیا جا رہاہے کہ نشستوں میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن EWS زمرہ کے رہنمایانہ خطوط کے انتظار کا حوالہ دیتے ہوئے داخلوں سے گریز کیا جارہاہے ۔ ڈاکٹر ابولحسن اشرف نے بتایا کہ وہ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی حکام سے نمائندگی کرچکے ہیں۔مزید کہاکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف یونانی میڈیسن (بنگلورو) میں EWS کے تحت داخلوں کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے طلبہ سے معاشی طور پر پسماندہ ہونے کے صداقتنامہ حاصل کرتے ہوئے داخلہ فراہم کیا جا رہاہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ میں میڈیکل میں داخلوں اور تمام میڈیکل کالجس کے امور کی نگران کالوجی نارائن یونیورسٹی حکام کی جانب سے اگر اضافی شدہ نشستوں پر داخلوں کے بجائے انہیں نظر انداز کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں جن نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے ان نشستوں کو آئندہ سال داخلہ نہ ہونے کی بنیاد پر برخواست بھی کیا جاسکتا ہے اسی لئے مختلف گوشوں سے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی حکام پر معاشی اعتبار سے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کو جو کہ EWS زمرہ میں شامل ہیں اور بی یو ایم ایس اور ایم ڈی میں داخلہ کے اہل ہیں انہیں داخلہ فراہم کرنے کے اقدامات کیلئے دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔