پی جی کے 36نشستوں کی منظوری سے بھی حکومت کا انکار ، تدریسی عملہ کی بھی کمی
حیدرآباد۔11جون( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی نااہلی اور محکمہ آیوش کی لاپرواہی کے نتیجے میں تعلیمی سال برائے2019-20کے لئے نظامیہ طبی کالج‘ چارمینار حیدرآباد ‘ جہاں پر ( بی یو ایم ایس) یوجی کے مختلف کورسوں میں75سیٹیں منظور کی گئی تھیںاس مرتبہ پی جی کے پانچ کورسس میں 36سیٹوں کی منظوری دینے سے محکمہ آیوش ‘ حکومت ہند نے انکار کردیاہے۔ جن شعبہ جات کے لئے اب تک منظوری نہیںملی ہے اس میںمعالجات کی دس سیٹیں‘ علم الادویہ کی چھ سیٹیں‘ علم القبالات و امراض نسواں کی دس سیٹیں‘ تحفظِ وسماجی طب کی پانچ سیٹیںاور کلیات کی پانچ سیٹیں شامل ہیں۔ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل سنٹرل کونسل برائے انڈین میڈیسن( سی سی ائی ایم) نے ہر سال کی طرح اس سال بھی نظامیہ طبی کالج‘ چارمینا ر‘ حیدرآباد کا دورہ کیا۔اس موقع پر سی سی ائی ٹیم کو اس بات کی جانکاری ملی ہے کہ نظامیہ طبی کالج میں تدریسی عملے کی بڑے پیمانے پر کمی ہے۔ باوثوق ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق طبی کالج میں69فیکلٹی درکار ہیںمگر تاحال یہاں پر صرف 29فیکلٹی کام کررہے ہیں ماباقی عملے کی بھرپائی کے لئے ڈائرکٹر آیوش نے سی سی ائی ایم کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لئے 23میڈیکل افیسرس کو نظامیہ طبی کالج میںمتعین کیا تھا۔حالانکہ مذکورہ میڈیکل آفیسرکا پیشہ درس وتدریس سے کوئی تعلق نہیںہے جبکہ وہ صرف فارمیسی میںکام کرتے ہیں اور تمام 23میڈیکل آفیسر عارضی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ آنے والے کچھ اور سالوں میںپانچ سے چھ ایسے پروفیسر س ہیں جن کی معیاد تکمیل ہورہی ہے ۔ اس کے بعد دیگر شعبوں پر بھی فیکلٹی کی کمی کا برا اثر پڑے گا۔ نظامیہ طبی کالج ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال سی سی ائی ایم ٹیم کی آمد سے قبل کالج میںتدریسی عملے کی کمی کے متعلق محکمہ آیوش او رحکومت تلنگانہ کو واقف کروایا جارہا ہے ۔
