یونانی کو ختم کرنے کی سازش، عمارت زبوں حالی کا شکار، مخالف یونانی عہدیداروں کی تعیناتی، فوری تحفظ کی ضرورت
حیدرآباد۔/26اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریبوں کو بہتر علاج کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے تمام طریقہ علاج کی حوصلہ افزائی کا اعلان کیا ہے جس میں یونانی اور آیورویدک طریقہ علاج شامل ہیں۔ حکومت کا اعلان ایسا ہی ہے جس طرح اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو دیا گیا لیکن ترقی حاصل نہیں ہوئی۔ جس طرح اردو کو مسلمانوں سے جوڑ کر اسے زوال سے دوچار کردیا گیا اسی طرح یونانی طریقہ علاج کو بھی مسلمان سمجھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ آیوش کے تنگ نظر ذہنیت کے حامل عہدیداروں نے یونانی طریقہ علاج کو ختم کرنے کی عملاً منصوبہ بندی کرلی ہے اور حیدرآباد کے واحد بین الاقوامی شہرت یافتہ دواخانہ یونانی نظامیہ چارمینار کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ نظام حیدرآباد نواب میر عثمان علی خاں نے غریبوں کو مفت علاج کے مقصد سے یہ ہاسپٹل قائم کیا تھا جہاں آج بھی کئی پیچیدہ امراض کا یونانی کے ذریعہ موثر علاج موجود ہے لیکن یہ ہاسپٹل محکمہ آیوش کی لاپرواہی اور سرد مہری کا شکار ہے۔ ایک طرف ہاسپٹل کی عمارت دن بہ دن زبوں حالی کا شکار ہے تو دوسری طرف فنڈز کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں ہاسپٹل سے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بند کردیا گیا۔ یونانی طریقہ علاج پر آج بھی عوام کو مکمل بھروسہ ہے لیکن محکمہ آیوش نے غریب عوام کو یونانی سے دور کرنے کی سازش رچی ہے۔ یونانی دواخانہ کے ذمہ داروں کے طور پر ایسے افراد کا تقرر کیا جاتا ہے جنہیں یونانی طریقہ علاج کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حالیہ عرصہ میں ایک عہدیدار نے کئی اصلاحی قدم اٹھائے تھے جس کے نتیجہ میں ہاسپٹل کے احیاء کا امکان تھا لیکن انہیں اچانک ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔ محکمہ آیوش کے اعلیٰ عہدیداروں تک ہاسپٹل کے ذمہ داروں کی رسائی نہیں ہے۔ بجٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں غریب مریضوں کو باہر سے ادویات خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ نہ صرف چارمینار بلکہ ریاست کے مختلف علاقوں میں موجود یونانی ڈسپنسریز میں ادویات کی کمی ہے۔ یونانی دواخانہ تو موجود ہے لیکن مریضوں کیلئے دوا دستیاب نہیں جس کے نتیجہ میں روزانہ سینکڑوں مریض مایوسی سے واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہاسپٹل کے آؤٹ پیشنٹ شعبہ میں روزانہ تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد رجوع ہوتے ہیں۔ ہاسپٹل کے تحت 180 بستروں پر مشتمل علاج کی سہولتیں موجود ہیں اور تمام بستر مریضوں سے پُر ہیں۔ زیادہ تر مریض فالج کے عارضہ کا شکار ہیں۔ دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کو جو نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست کے دیگر علاقوں سے رجوع ہوتے ہیں انہیں باہر سے دوائیں لکھی جارہی ہیں۔ ر