سرکاری اسکیمات سے جوڑکوغیرقانونی تعمیرات کی کوشش‘تحصیلدارکی بروقت کاروائی
نظام آباد: 7؍ جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہر نظام آباد کے بلدی حدود میں زمینوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیلئے لینڈ گرابرس کی نگاہیں سرکاری اراضی پر پڑ گئی ہے اور کسی نہ کسی بہانے سے ان سرکاری اراضیات پر غیر مجاس طور پر قبضہ کرتے ہوئے اسے فروخت کرنے اور غریب عوام کو دھوکہ دہی کے ذریعے سرکاری اسکیموں سے جوڑتے ہوئے تعمیری کام انجام دیتے ہوئے فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب اس بات کی اطلاع تحصیلدار کو دی گئی تو تحصیلدار نارتھ نے ان غیر مجاز کاموں کو رکا دیا سرکاری اراضی پر قبضوں کا سلسلہ تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہا ہے مختلف علاقوں میں سرکاری زمینوں کو ذاتی پلاٹوں میں ضم کرتے ہوئے ناجائز مکانات کی تعمیر کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ارسہ پلی علاقہ میں واقع سروے نمبر 249 کو پہلے ہی سرکاری زمین قرار دیتے ہوئے محکمہ جاتی بورڈس نصب کیے گئے تھے، اس کے باوجود وہاں غیر قانونی تعمیرات کی شکایات موصول ہوئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر سے تعلق رکھنے والے ایک سابق عوامی نمائندہ پر ماضی میں بھی سرکاری زمینوں پر قبضہ کے الزامات رہے ہیں اور سیاسی سرپرستی کے بل بوتے پر وہ متعدد قبضہ معاملوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق نارتھ منڈل حدود میں فارسٹ اراضی سے متصل ایک مقام پر جہاں کسی بھی قسم کی تعمیر ممنوع ہے، بعض افراد نے زمین پر قبضہ کر کے دیگر لوگوں کو فروخت کیا اور تعمیرات کی حوصلہ افزائی کی جس سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی منڈل کے ایک سروے نمبر میں 1581 گز سرکاری زمین پر قبضہ کر کے بعض افراد کے لیے ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ مذکورہ نمائندے پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ماضی میں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ رہے قبضہ معاملوں پر معطل ہونے کے بعد برسرِ اقتدار جماعت میں شامل ہو گیاور اب ریاستی سطح کے ایک لیڈر کا نام استعمال کرتے ہوئے ناجائز سرگرمیوں کو انجام دے رہے ہیں۔ اس معمولی سے متعلق 6ویں ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں 13 افراد کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ نارتھ تحصیلدار وجئے کانت راؤ نے اس سلسلہ میں بتایا کہ ارسہ پلی علاقہ کے سروے نمبر 249 میں غیر قانونی تعمیرات کی شکایات ملنے پر محکمہ ریونیو اور دیگر عہدیداروں نے موقع پر جا کر معائنہ کیا اور تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق زمین کا ایک حصہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے جبکہ باقی حصے میں تعمیرات جاری تھیں، جس کی رپورٹ اعلیٰ عہدیداروں کو روانہ کر دی گئی ہے اور مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادھر عوامی حلقوں میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں غریبوں کو فروخت کرنے اور ڈبل بیڈروم مکانات کی منظوری دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے اندرا مکانات اسکیم کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے نئے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر میں سرکاری زمینوں کے تحفظ کے لیے جامع تحقیقات کرائیں اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
