مجلس اورکانگریس میں دو مقامات پرجھڑپ ‘ 3بجے سہ پہر تک اوسطاً 48.55فیصدپولنگ
نظام آباد: 11 ؍فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی پولنگ سخت انتظامات کے درمیان چند واقعات کے علاوہ پُرامن طور پر منعقدہ ہوئی۔ڈیویژن نمبر 59 میں ایک خاتون فرضی ووٹ ڈالنے کیلئے پہنچی تو پولنگ عملہ نے اس کی شناخت کرتے ہوئے فوری اس خاتون کو پولیس کے حوالے کردیا۔ اسی طرح ڈیویژن نمبر 11 میں مجلسی امیدوار ہ کے حامیوں نے کانگریس کے امیدوار محمد کریم الدین پر حملہ کردیا جس کی وجہ سے زخمی ہونے پر انہیں دواخانہ منتقل کیا گیا۔ اسی طرح ڈیویژن نمبر 55 میں مجلس اور کانگریس کے درمیان زبردست کشیدگی دیکھی گئی ۔مجلس کے ٹائون سکریٹری محمد شہباز اور کانگریسی کارکنوں کے درمیان جھڑ پ ہوگئی ۔ پولیس بروقت کارروائی کرتے ہوئے یہاں سے ہجوم کو منتشر کردیا۔ اسی طرح ڈیویژن نمبر 59 میں بھی کانگریس اور مجلس کے درمیان جھڑ پ دیکھی گئی ۔ اکثریتی علاقوں میں رکن پارلیمنٹ ڈی اروند اور پولیس کے درمیان لفظی طور پر جھڑپ دیکھی گئی ۔ رکن پارلیمنٹ نے پولنگ بوتھ 287 میں امیدوار کو پولنگ بوتھ سے باہر کرنے پر پولیس والوں سے بحث کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔گوپن پلی میں دونوں پارٹیوں کے درمیان جھڑپ ہونے پر پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کردیا ۔ نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ بودھن، آرمور اور بھیمگَل بلدیات کے حدود میں منگل کی صبح 7 بجے رائے دہی کا آغاز ہوا۔ صبح سے ہی ووٹرس کی بڑی تعداد پولنگ مراکز پر پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ صبح 9 بجے تک اوسطاً 8.25 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی جس میں نظام آباد کارپوریشن حدود میں 6.49 فیصد، آرمور میں 11.05 فیصد، بودھن میں 14.24 فیصد اور بھیمگل میں 9.38 فیصد رائے دہی درج ہوئی۔ صبح 11 بجے تک اوسط پولنگ 22.54 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ دوپہر ایک بجے تک یہ شرح بڑھ کر 39.68 فیصد ہوگئی۔ سہ پہر 3 بجے تک اوسطاً 48.55 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ جس میں آرمور، بودھن اور بھیمگَل میں پولنگ کی شرح نمایاں طور پر زیادہ دیکھ گیا ۔ضلع الیکشن آفیسر و کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے نظام آباد شہر کے ایس ایف ایس اسکول، ارسہ پلی اسکول، مالاپلی گرلز جونیئر کالج اور آرمور کے رام مندر گورنمنٹ پرائمری اسکول، ضلع پریشد ہائی اسکول اور پرکِٹ کے ضلع پریشد بوائز اردو میڈیم ہائی اسکول سمیت مختلف پولنگ مراکز کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہیلپ ڈیسک، میڈیکل کیمپ، وہیل چیئر اور دیگر سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنایا۔ کلکٹریٹ سے ویب کاسٹنگ کے ذریعہ بھی پولنگ کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔ ضلع کلکٹر نے پولنگ بوتھ نمبر 39 سبھاش نگر کے علاوہ مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کرتے ہوئے رائے دہی کا جائزہ لیا اور اس موقع پر بتایا کہ یہ حال ہی میں ضلع میں کلکٹر کی حیثیت سے جائزہ لیا جس کی وجہ سے ان کا ووٹ یہاں پر نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں افسوس بھی ہورہا ہے تاہم قواعد کے مطابق کام کرنا ناگزیر ہے ۔ ضلع میں مجموعی طور پر 729 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں رائے دہندگان نے جوش و خروش کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ووٹرس میں بیداری پیدا کرنے کے لیے وسیع تشہیری مہم چلائی گئی، فوٹو ووٹر سلپس تقسیم کی گئیں اور بی ایل اوز کے ذریعہ ہیلپ ڈیسک قائم کر کے رہنمائی فراہم کی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے منظورہ 18 شناختی دستاویزات میں سے کسی ایک کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے بتایا کہ پولنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور حساس مراکز پر زائد پولیس بندوبست کیا گیا تھا ویب کاسٹنگ اور مائیکرو آبزرورز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ مقررہ وقت تک قطاروں میں موجود ووٹرس کو قواعد کے مطابق ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ پولنگ کے اختتام کے بعد بیالٹ باکسس کو سیل کر کے سخت پولیس بندوبست میں اسٹرانگ رومس منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 13؍ فروری کی صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی سخت انتظامات کے تحت شروع کی جائے گی اور نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کسی بھی کوتاہی کی گنجائش نہ رکھنے کی ہدایت عہدیداروں کو دی گئی۔