پریس کلب کی تاریخ میں245صحافیوں کاتاریخی اقدام
نظام آباد۔31 ڈسمبر ۔ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سماج کو بیدار کرنے میں صفِ اوّل کا کردار ادا کرنے والے صحافیوں نے اس بار نظام آباد میں اپنی اجتماعی بیداری اور جمہوری شعور کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ منگل کے روز منعقدہ نظام آباد پریس کلب کے انتخابات میں 245 صحافیوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے ایسا فیصلہ دیا جو نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ پریس کلب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ صحافی برادری نے پرانی قیادت کو مسترد کرتے ہوئے نئی قیادت کو منتخب کر کے تبدیلی کی سمت واضح پیغام دیا، جس پر مختلف طبقات کی جانب سے بھرپور ستائش کی جا رہی ہے۔نتائج کے مطابق نظام آباد پریس کلب کے صدر کے عہدہ پر پنچاریڈی شری کانت نے اپنے قریبی حریف اور سابق صدر راماکرشنا کو 124 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست دی۔ شری کانت کو 176 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ راما کرشنا کو 52 ووٹ ملے، جب کہ ایک اور امیدوار راجیش کو صرف 13 ووٹ مل سکے۔ نائب صدور کے طور پر شریمتی سنگیتا نے 100 ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والی واحد خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ ستیش گوڑ (95 ووٹ) اور جیٹلی گووند راج (79 ووٹ) نائب صدور منتخب ہوئے۔جنرل سکریٹری کے عہدے پر سبھاش واگھمارے نے 61 ووٹ حاصل کر کے سابق جنرل سکریٹری بائرا شیکھر (51 ووٹ) کو معمولی فرق سے شکست دی۔ ٹریژر کے عہدے پر بی راج کمار نے 131 ووٹ حاصل کر کے سندیپ (109 ووٹ) پر 22 ووٹوں کی سبقت حاصل کی۔ آرگنائزنگ سکریٹری کے طور پر راجو 130 ووٹ لے کر منتخب ہوئے، انہوں نے سابق عہدیدار منڈے موہن (102 ووٹ) کو شکست دی۔ جوائنٹ سکریٹری کے عہدوں پر سریش (138 ووٹ)، رویندر نائک (136 ووٹ) اور ایس انجنیلو (123 ووٹ) کامیاب قرار پائے۔ایگزیکٹو کمیٹی کے لیے 27 امیدوار میدان میں تھے، جن میں ووٹوں کی بنیاد پر 12 افراد کو منتخب کیا گیا۔ منتخب اراکین میں ستھاری کرشنا، پبّا بھومیش، آڈیپو نریندر سوامی، بھاسکر گوڑ، دیشمکھ سندیپ، کوٹورو سدھرسن، روی چرن ریڈی، تالّا شری دھر، پریتم ریڈی، آڈیپو سرینواس اور جئے پال شامل ہیں، جبکہ سندیپ گوڑ اور کوکّو روی کمار کو برابر 84،84 ووٹ ملنے کے باعث دونوں کے درمیان ٹائی قرار دیا گیا۔نظام آباد پریس کلب کے ان انتخابات نے نہ صرف صحافیوں کی جمہوری طاقت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ قلم کے سپاہی جب متحد ہو کر فیصلہ کریں تو وہ تاریخ کا رُخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
